ضروری ہے خود ثبوت صغریٰ سے ثابت ہوتا ہے اور نیز ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ میں قدرت ضروریہ تامہ نہ ہو تو پھر قدرت اس کی بعض اتفاقی امور کے حصول پر موقوف ہوگی۔ اور جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں عقل تجویز کرسکتی ہے کہ اتفاقی امور وقت پر خدائے تعالیٰ کو میسر نہ ہوسکیں کیونکہ وہ اتفاقی ہیں۔ ضروری نہیں۔ حالانکہ تعلق پکڑنا روح کا جنین کے جسم سے بروقت طیاری جسم اس کے کے لازم ملزوم ہے۔ پس ثابت ہوا کہ فعل خدائے تعالیٰ کا بطور قدرت تامہ کے ضروری ہے اور نیز اس دلیل سے ضرورت قدرت تامہ کی خدائے تعالیٰ کے لئے واجب ٹھہرتی ہے کہ بموجب اصول متقررہ فلسفہ کے ہم کو اختیار ہے کہ یہ فرض کریں کہ مثلاً ایک مدت تک تمام ارواح موجودہ ابدان متناسبہ اپنے سے متعلق ہیں۔ پس جب ہم نے یہ امر فرض کیا تو یہ فرض ہمارا اس دوسرے فرض کو بھی مستلزم ہوگا کہ اب تا انقضائے اس مدت کے ان جنینوں میں جو رحموں میں طیار ہوئے ہیں کوئی روح داخل نہیں ہوگا۔ حالانکہ جنینوں کا بغیر تعلق روح کے معطل پڑے رہنا بہ بداہت عقل باطل ہے۔ پس جو امر مستلزم باطل ہے وہ بھی باطل۔ پس ثبوت متقدمین سے یہ نتیجہ ثابت ہوگیا کہ خدائے تعالیٰ کے لئے صفت ربوؔ بیت تامہ کی ضروری ہے اور یہی مطلب تھا۔ دلیل ششم:۔ قرآن مجید میں بمادہ قیاس مرکب قائم کی گئی ہے اور قیاس مرکب کی یہ تعریف ہے کہ ایسے مقدمات سے مؤلف ہوکہ ان سے ایسا نتیجہ نکلے کہ اگرچہ وہ نتیجہ خود بذاتہٖ مطلب کو ثابت نہ کرتا ہو لیکن مطلب بذریعہ اس کے اس طور سے ثابت ہو کہ اسی نتیجہ کو کسی اور مقدمہ کے ساتھ ملا کر ایک دوسرا قیاس بنایا جائے۔ پھر خواہ نتیجہ مطلوب اسی قیاس دوم کے ذریعہ سے نکل آوے یا اور کسی قدر اسی طور سے قیاسات بناکر مطلوب حاصل ہو۔ دونوں صورتوں میں اس قیاس کو قیاس مرکب کہتے ہیں۔ اور آیت شریف جو اس قیاس پر متضمن ہے یہ ہے دیکھو سورۃالبقرۃ الجزو ۳ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَـىُّ الْقَيُّوْمُ ۚ