خالق کیسے ہو۔ اس آیت شریف میں یہ استدلال لطیف ہے کہ ہرپنج شقوق قدامت ارواح کو اس طرز مدلل سے بیان فرمایا ہے کہ ہر ایک شق کے بیان سے ابطال اس شق کا فی الفور سمجھا جاتا ہے اور تفصیل ان اشارات لطیفہ کی یوں ہے کہ شق اول یعنے ایک شے معدوم کا بغیر فعل کسی فاعل کے خودبخود پیدا ہوجانا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے ترجیح بلا مرجّح لازم آتی ہے کیونکہ عدم سے وجود کا لباس پہننا ایک موثر مرجّحکو چاہتا ہے جو جانب وجود کو جانب عدم پر ترجیح دے لیکن اس جگہ کوئی مؤثر مرجّح موجود نہیں اور بغیر وجود مرجّح کے خودبخود ترجیح پیدا ہوجانا محال ہے۔ اور شق دوم یعنے اپنے وجود کا آپ ہی خالق ہونا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے تقدم شے کا اپنے نفس پر لازم آتا ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ ہر ایک شے کے وجود کی علت موجبہ اس شےؔ کا نفس ہے تو بالضرورت یہ اقرار اس اقرار کو مستلزم ہوگا کہ وہ سب اشیاء اپنے وجود سے پہلے موجود تھیں اور وجود سے پہلے موجود ہونا محال ہے۔ اور شق سوم یعنے ہر ایک شے کا مثل ذات باری کے علت العلل اور صانع عالم ہونا تعدد خداؤں کو مستلزم ہے اور تعدد خداؤں کا باتفاق محال ہے اور نیز اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے اور وہ بھی محال ہے۔ اور شق چہارم یعنے محیط ہونا نفس انسان کا علوم غیرمتناہی پر اس دلیل سے محال ہے کہ نفس انسانی باعتبار تعیّن تشخص خارجی کے متناہی ہے اور متناہی میں غیرمتناہی سمانہیں سکتا اس سے تحدید غیر محدود کی لازم آتی ہے۔ اور شق پنجم یعنے خودمختار ہونا اور کسی کے حکم کے ماتحت نہ ہونا ممتنع الوجود ہے۔ کیونکہ نفس انسان کا بضرورت استکمال ذات اپنی کے ایک مکمل کا محتاج ہے اور محتاج کا خودمختار ہونا محال ہے اس سے اجتماع نقیضین لازم آتا ہے پس جبکہ بغیر ذریعہ خالق کے موجود ہونا موجودات کا بہرصورت ممتنع اور محال ہوا تو بالضرور یہی ماننا پڑا کہ