یہ نہیں کہتا کہ مَیں اگر جھوٹا ہوتا تو ہلاک کیا جاتا بلکہ مَیں یہ بھی کہتا ہوں کہ موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد اور آنحضرت صلعم کی طرح مَیں سچا ہوں اور میری تصدیق کے لئے خدا نے دس۱۰ ہزار سے بھی زیادہ نشان دکھلائے ہیں۔ قرآن نے میری گواہی دی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گواہی دی ہے۔ پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور زمین نے بھی اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا اور یہ جو مَیں نے کہا کہ میرے دس۱۰ ہزار نشان ہیں یہ بطور کفایت لکھاگیا ورنہ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ایک سفید کتاب ہزار ُ جز کی بھی کتاب ہو اور اس میں مَیں اپنے دلائل صدق لکھنا چاہوں تو مَیں یقین رکھتا ہوں کہ وہ کتاب ختم ہو جائے گی اور وہ دلائل ختم نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے 33 33ْ3 3 ۱؂ یعنی اگر یہ جھوٹا ہوگا تو تمہارے دیکھتے دیکھتے تباہ ہو جائے گا اور اس کا جھوٹ ہی اس کو ہلاک کر دے گا لیکن اگر سچا ہے تو پھر بعض تم میں سے اس کی پیشگوئیوں کا نشانہ بنیں گے اور اس کے دیکھتے دیکھتے اس دارالفنا سے کوچ کریں گے۔ اب اِس معیار کے رُو سے جو خدا کے کلام میں ہے مجھے آزماؤ اور میرے دعوے کو پرکھو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ان مولوی صاحبوں نے میرے تباہ کرنے کے لئے کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا کُفرنامہ تیار کرتے کرتے ان کے پَیر گھِس گئے۔ گالیوں کے اشتہار شائع کرتے کرتے شیعوں کو بھی پیچھے ڈال دیا میرے پر خون کے مقدمات بنائے گئے اور کئی دفعہ فوجداری الزاموں کے نیچے رکھ کر مجھے عدالت تک پہنچایا گیا۔ میری طرف آنے والوں پر وہ سختی کی گئی کہ بجز صحابہ کی اُس زندگی کے جب مکّہ میں تھے دنیا میں اِس توہین اور تحقیر اور ایذا کی نظیر نہیں پائی جاتی بعض میرے متعلقین غیر ممالک کے انہیں ممالک میں قتل کئے گئے۔ غرض اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ میرے معدوم کرؔ نے کے لئے اور لوگوں کو میری طرف آنے سے منع کرنے کے لئے ناخنوں تک زور لگایا گیا اور کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا بہت سے بے حیائی کے