خاتمہ
یہ تمام نصائح جو ہم لکھ چکے ہیں اِس غرض سے ہیں کہ تا ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے خوف میں ترقی کرے اور تا وہ اس لائق ہو جاویں کہ خدا کا غضب جو زمین پر بھڑک رہا ہے وہ ان تک نہ پہنچے اور تا ان طاعون کے دنوں میں وہ خاص طور پر بچائے جائیں سچی تقویٰ (آہ بہت ہی کم ہے سچی تقویٰ) خدا کو راضی کر دیتی ہے اور خدا نہ معمولی طور پر بلکہ نشان کے طور پر کامل متقی کو بلا سے بچاتا ہے ہر یک مکّار یا نادان متقی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر متقی وہ ہے جو خدا کے نشان سے متقی ثابت ہو۔ ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ میں خدا سے پیار کرتا ہوں۔ مگر خدا سے پیار وہ کرتا ہے جس کا پیار آسمانی گواہی سے ثابت ہو۔ اور ہر ایک کہتا ہے کہ میرا مذہب سچا ہے مگر سچا مذہب اس شخص کا ہے جس کو اسی دنیا میں نور ملتا ہے۔ اور ہر ایک کہتا ہے کہ مجھے نجات ملے گی مگر اس قول میں سچا وہ شخص ہے جو اسی دنیا میں نجات کے انوار دیکھتا ہے۔ سو تم کوشش کرو کہ خدا کے پیارے ہو جاؤ تا تم ہر ایک آفت سے بچائے جاؤ۔ کامل متقی طاعون سے بچایا جائے گا کیونکہ وہ خدا کی پناہ میں ہے سو تم کامل متقی بنو جو کچھ خدا نے طاعون کے بارے میں فرمایا تم سن چکے ہو وہ ایک غضب کی آگ ہے پس تم اپنے تئیں اُس آگ سے بچاؤ۔ جو شخص سچے طور پر میری پیروی کرتا ہے اور کوئی خیانت اُس کے اندر نہیں اور نہ کسل اور نہ غفلت ہے اور نہ نیکی کے ساتھ بدی کو جمع رکھتا ہے وہ بچا یا جائے گا لیکن وہ جو اس راہ میں سست قدم سے چلتا ہے اور تقویٰ کے راہوں میں پورے طور پر