انؔ کی مجالس میں اگر جاؤ تو بجائے قرآن شریف اور کتب حدیث کے طرح طرح کے تنبورے اور سارنگیاں اور ڈھولکیاں اور قوّال وغیرہ اسباب بدعات نظر آئیں گے اور پھر باوجود اس کے مسلمانوں کے پیشوا ہونے کا دعویٰ اور اتباع نبوی کی لاف زنی اور بعض ان میں سے عورتوں کا لباس پہنتے ہیں اور ہاتھوں میں مہندی لگاتے ہیں اور چوڑیاں پہنتے ہیں اور قرآن شریف کی نسبت اشعار پڑھنا اپنی مجلسوں میں پسند کرتے ہیں۔ یہ ایسے پرانے زنگار ہیں جو خیال میں نہیں آ سکتا کہ دور ہو سکیں تا ہم خدا ئے تعالیٰ اپنی قدرتیں دکھائے گا اور اسلام کا حامی ہوگا۔
عورتوں کو کچھ نصیحت
ہمارے اس زمانہ میں بعض خاص بدعات میں عورتیں بھی مبتلا ہیں وہ تعدّدنکاح کے مسئلہ کو نہایت بری نظر سے دیکھتی ہیں گویا اُس پر ایمان نہیں رکھتیں ان کو معلوم نہیں کہ خدا کی شریعت ہر ایک قسم کا علاج اپنے اندر رکھتی ہے پس اگر اسلام میں تعدد نکاح کا مسئلہ نہ ہوتا تو ایسی صورتیں کہ جو مردوں کے لئے نکاح ثانی کے لئے پیش آ جاتی ہیں اس شریعت میں ان کا کوئی علاج نہ ہوتا۔ مثلاً اگر عورت دیوانہ ہو جائے یا مجذوم ہو جائے یا ہمیشہ کے لئے کسی ایسی بیماری میں گرفتار ہو جائے جو بیکار کر دیتی ہے یا اور کوئی ایسی صورت پیش آ جائے کہ عورت قابل رحم ہو مگر بیکار ہو جاوے اور مرد بھی قابل رحم کہ وہ تجردپر صبر نہ کر سکے تو ایسی صورت میں مرد کے قویٰ پر یہ ظلم ہے کہ اس کو نکاح ثانی کی اجازت نہ دی جاوے درحقیقت خدا کی شریعت نے انہیں امور پر نظر کر کے مردوں کے لئے یہ راہ کھلی رکھی ہے اور مجبوریوں کے وقت عورتوں کے لئے بھی راہ کھلی ہے کہ اگر مرد بیکار ہو جاوے تو حاکم کے ذریعہ سے خلع کرالیں جو طلاق کے قائم مقام ہے خدا کی شریعت دوا فروش کی دوکان کی مانند ہے پس اگر دوکان ایسی نہیں ہے جس میں سے ہر ایک بیماری کی دوا مل سکتی ہے تو وہ دوکان چل نہیں سکتی پس غور کرو کہ کیا یہ سچ نہیں کہ بعض مشکلات مردوں کے لئے ایسی پیش آ جاتی ہیں جن میں وہ نکاح ثانی کے لئے مضطر ہوتے ہیں۔ وہ شریعت کس کام کی جس میں کل مشکلات کا علاج نہ ہو۔ دیکھو انجیل میں