رکھتے ہو تو ہم اِن دو فقروں پر اِس تقریر کو ختم کرتے ہیں۔ 3 3 ۱ اندرونی تفرقہ اور پھوٹ کے زمانہ میں تمہارا فرضی مسیح اور فرضی مہدی کس کس پر تلوار چلائے گا کیا سنیوں کے نزدیک شیعہ اس لائق نہیں کہ اُن پر تلوار اُٹھائی جائے اور شیعوں کے نزدیک سُنی اس لائق نہیں کہ ان سب کو تلوار سے نیست و نابود کیا جاوے پس جب کہ تمہارے اندرونی فرقے ہی تمہارے عقیدہ کی رو سے مستوجب سزا ہیں تو تم کس کس سے جہاد کرو گے۔ مگر یاد رکھو کہ خدا تلوار کا محتاج نہیں وہ اپنے دین کو آسمانی نشانوں کے ساتھ زمین پر پھیلائے گا اور کوئی اُس کو روک نہیں سکے گا اور یاد رکھو کہ اب عیسیٰ تو ہرگز نازل نہیں ہوگا کیونکہ جو اقرار اُس نے آیت 3 ۲کے رو سے قیامت کے دن کرنا ہے اس میں صفائی سے اُس کا اعتراف پایا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا اور قیامت کو اس کا یہی عذر ہے کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھے خبر نہیں اور اگر وہ قیامت کے پہلے دنیا میں آتا تو کیا وہ یہی جواب دیتا کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں لہٰذا اس آیت میں اُس نے صاف اقرار کیا ہے کہ میں دوبارہ دنیا میں نہیں گیا اور اگر وہ قیامت سے پہلے دنیا میں آنے والا تھا اور برابر چالیس برس رہنے والا تب تو اُس نے خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولا کہ مجھے عیسائیوں کے حالات کی کچھ خبر نہیں اس کو تو کہنا چاہئے تھاکہ آمد ثانی کے وقت میں نے چالیس۴۰ کروڑ کے قریب دنیا میں عیسائی پایا اور اُن سب کو دیکھا اور مجھے ان کے بگڑنے کی خوب خبر ہے اور میں تو انعام کے لائق ہوں کہ تمام عیسائیوں کو مسلمان کیا اور صلیبوں کو توڑا یہ کیسا جھوٹ ہے کہ عیسیٰ کہے گا کہ مجھے خبر نہیں غرض اس آیت میں نہایت صفائی سے مسیح کا اقرار ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا اور یہی سچ ہے کہ مسیح فوت ہوچکا اور سرینگر محلہ خانیار میں اُس کی قبرہے* ۔اب خدا خود نازل ہوگا اور ان لوگوں سے آپ لڑے گا جو سچائی سے لڑتے ہیں۔ خدا کا لڑنا قابل اعتراض نہیں کیونکہ وہ نشانوں کے رنگ میں ہے لیکن انسان کا لڑنا قابل اعتراض ہے کیونکہ وہ جبر کے رنگ میں ہے۔
ایک یہودی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ قبر واقعہ سری نگر یہودیوں کے انبیاء کی قبروں کی طرح بنی ہوئی ہے۔ دیکھو پرچہ علیحدہ حاشیہ ۔ منہ