جزیہ بھی قبول نہ کرے گا یہ تعلیم قرآن شریف کی کس مقام اور کس سیپارہ اور کس سورہ میں ہے* سارؔ ا قرآن بار بار کہہ رہا ہے کہ دین میں جبر نہیں اور صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ جن لوگوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت لڑائیاں کی گئی تھیں وہ لڑائیاں دین کو جبراً شائع کرنے کے لئے نہیں تھیں بلکہ یا تو بطور سزا تھیں یعنی اُن لوگوں کو سزا دینا منظور تھا جنہوں نے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کو قتل کر دیا اور بعض کو وطن سے نکال دیا تھا اور نہایت سخت ظلم کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 33 ۱ یعنی ان مسلمانوں کو جن سے کفار جنگ کر رہے ہیں بسبب مظلوم ہونے کے مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے کہ جو ان کی مدد کرے۔ اور یا وہ لڑائیاں ہیں جو بطور مدافعت تھیں یعنی جو لوگ اسلام کے نابود کرنے کے لئے پیش قدمی کرتے تھے یا اپنے ملک میں اسلام کو شائع ہونے سے جبراً روکتے تھے ان سے بطور حفاظت خود اختیاری یا ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لئے لڑائی کی جاتی تھی بجز ان تین صورتوں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مقدس خلیفوں نے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ اسلام نے غیر قوموں کے ظلم کی اس قدر برداشت کی ہے جو اس کی دوسری قوموں میں نظیر نہیں ملتی پھر یہ عیسیٰ مسیح اور مہدی صاحب کیسے ہوں گے جو آتے ہی لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے یہاں تک کہ کسی اہل کتاب سے بھی جزیہ قبول نہیں کریں گے اور آیت 3 3 ۲ کو بھی منسوخ کر دیں گے یہ دین اسلام کے کیسے حامی ہوں گے کہ آتے ہی قرآن کی ان آیتوں کو بھی منسوخ کر دیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں
اگر کہو کہ عربوں کے لئے بھی حکم تھاکہ جبراً مسلمان کئے جائیں یہ خیال قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ چونکہ تمام عرب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذا پہنچایا تھا اور بہت سے صحابہ مردوں اور عورتوں کو قتل کر دیا تھا اور بقیۃ السیف کو وطن سے نکال دیا تھا اس لئے وہ تمام لوگ جو مرتکب جرم قتل یا معین اس جرم کے تھے وہ سب خدا تعالیٰ کی نظر میں اپنی خونریزی کے عوض میں خونریزی کے لائق ہو چکے تھے ان کی نسبت بطور قصاص اصل حکم قتل کا تھا مگر ارحم الراحمین کی طرف سے یہ رعایت دی گئی کہ اگر کوئی ان میں سے مسلمان ہو جائے تو اُس کا گذشتہ جرم جس کی وجہ سے وہ قابل سزائے موت ہے بخش دیا جائے گا پس کہاں یہ صورت رحم اور کہاں جبر۔ منہ