ان پر عمل واجب ہے کہ کوئی مضمون ایسا نہ ہو جو قرآن اور سنّت اور اُن احادیث سے مخالف ہو جو قرآن کے مطابق ہیں۔
اے خدا کے طالب بندو! کان کھولو اور سنو کہ یقین جیسی کوئی چیز نہیں یقین ہی ہے جو گناہ سے چھڑاتا ہے۔ یقین ہی ہے جو نیکی کرنے کی قوت دیتا ہے یقین ہی ہے جو خدا کا عاشق صادق بناتا ہے کیا تم گناہ کو بغیر یقین کے چھوڑ سکتے ہو۔ کیا تم جذبات نفس سے بغیرؔ یقینی تجلّی کے رُک سکتے ہو۔ کیا تم بغیر یقین کے کوئی تسلی پا سکتے ہو۔ کیا تم بغیر یقین کے کوئی سچی تبدیلی پیدا کر سکتے ہو کیا تم بغیر یقین کے کوئی سچی خوشحالی حاصل کر سکتے ہو۔ کیا آسمان کے نیچے کوئی ایسا کفّارہ اور ایسا فدیہ ہے جو تم سے گناہ ترک کر اسکے کیا مریم کا بیٹا عیسیٰ ایسا ہے کہ اس کا مصنوعی خون گناہ سے چھڑائے گا۔ اے عیسائیو ایسا جھوٹ مت بولو۔ جس سے زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے یسوع خود اپنی نجات کے لئے یقین کا محتاج تھا اور اُس نے یقین کیا اور نجات پائی۔ افسوس ہے اُن عیسائیوں پر جو یہ کہہ کر مخلوق کو دھوکا دیتے ہیں کہ ہم نے مسیح کے خون سے گناہ سے نجات پائی ہے حالانکہ وہ سر سے پیر تک گناہ میں غرق ہیں وہ نہیں جانتے کہ اُن کا کون خدا ہے بلکہ زندگی تو غفلت آمیز ہے شراب کی مستی اُن کے دماغ میں ہے مگر وہ پاک مستی جو آسمان سے اُترتی ہے اُس سے وہ بے خبر ہیں اور جو زندگی خدا کے ساتھ ہوتی ہے اور جو پاک زندگی کے نتائج ہوتے ہیں وہ اُس سے بے نصیب ہیں پس تم یاد رکھو کہ بغیر یقین کے تم تاریک زندگی سے باہر نہیں آ سکتے اور نہ روح القدس تمہیں مل سکتا ہے۔ مبارک وہ جو یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہی خدا کو دیکھیں گے۔ مبارک وہ جو شبہات اور شکوک سے نجات پا گئے ہیں کیونکہ وہی گناہ سے نجات پائیں گے۔ مبارک تم جب کہ تمہیں یقین کی دولت دی جائے کہ اس کے بعد تمہارے گناہ کا خاتمہ ہوگا۔ گناہ اور یقین دونوں جمع نہیں ہو سکتے کیا تم ایسے سوراخ میں ہاتھ ڈال سکتے ہو جس میں تم ایک سخت زہریلے سانپ کو دیکھ رہے ہو کیا تم ایسی جگہ کھڑے رہ سکتے ہو جس جگہ کسی کوہ آتش افشاں سے پتھر برستے ہیں یا بجلی پڑتی ہے یا ایک خونخوار شیر کے حملہ کرنے کی جگہ ہے