خدا نے غلطی کھائی۔ اور اگر ایک حدیث ضعیف درجہ کی بھی ہو بشرطیکہ وہ قرآن اور سنّت اور ایسی احادیث کے مخالف نہیں جو قرآن کے موافق ہیں تو اس حدیث پر عمل کرو لیکن بڑی احتیاط سے حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ بہت سی احادیث موضوعہ بھی ہیں جنہوں نے اسلام میں فتنہ ڈالا ہے ہر ایک فرقہ اپنے عقیدہ کے موافق حدیث رکھتا ہے یہاں تک کہ نماز جیسے یقینی اور متواتر فریضہ کو احادیث کے تفرقہ نے مختلف صورتوں میں کر دیا ہے کوئی آمین بالجہر کرتا ہے کوئی پوشیدہ کوئی خلف امام فاتحہ پڑھتا ہے کوئی اِس پڑھنے کو مفسد نماز جانتا ہے کوئی سینہ پر ہاتھ باندھتا ہے کوئی ناف پر اصل وجہ اس اختلاف کی احادیث ہی ہیں 3َ ۱ ورنہ سنّت نے ایک ہی طریق بتلایا تھا پھر روایات کے تداخل نے اس طریق کو جنبش دے دی۔ اِسی طرح احادیث کی غلط فہمی نے کئی لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ شیعہ بھی اسی سے ہلاک ہوئے اگر قرآن کو اپنا حَکَم ٹھہراتے تو ایک سورۃ نور ہی ان کو نور بخش سکتی تھی مگر حدیثوں نے ان کو ہلاک کیا اسی طرح حضرت مسیح کے وقت وہ یہودی ہلاک ہوگئے*جو اہلحدیث کہلاتے تھے کچھ مدت سے ان لوگوں نے توریت کو چھوڑ دیا تھا اور جیسا کہ آج تک اُن کا عقیدہ ہے اُن کا یہ مذہب تھا کہ حدیث توریت پر قاضی ہے۔ سو اُن میں ایسی حدیثیں بکثرت موجود تھیں کہ جب تک ایلیا دوبارہ آسمان سے اپنے عنصری وجوؔ د کے ساتھ نازل نہ ہو تب تک ان کا مسیح موعود نہیں آئے گا ان حدیثوں نے ان کو سخت ٹھوکر میں ڈال دیا اور وہ لوگ ان حدیثوں پر تکیہ کر کے حضرت مسیح کی اس تاویل کو قبول نہ کر سکے کہ الیاس سے مراد یوحنا یعنی یحییٰ نبی ہے جو الیاس کی خو اور طبیعت پر آیا اور بروزی
انجیل میں نہایت سخت مخالفت ان خیالات کی کی گئی تھی جو کہ طالمود کی حدیثوں اور روایتوں میں ظاہر کئے گئے تھے۔ یہ حدیثیں سینہ بہ سینہ حضرت موسیٰ تک پہنچائی جاتی تھیں اور کہا جاتا تھا کہ یہ حضرت موسیٰ کے الہامات ہیں۔ بالآخر یہ حال ہو گیا تھا کہ توریت کو چھوڑکر تمام وقت احادیث کے پڑھنے پر لگایا جاتا تھا۔ بعض امور میں طالمود توریت کے مخالف ہے تب بھی یہود طالمود کی بات پر عمل کرتے تھے۔ طالمود مؤلفہ یوسف بارکلے مطبوعہ لنڈن ۱۸۷۸ء۔