نہیں دیا گیا وہ اس موقعہ پر حدیث کو قاضی قرآن کہتے ہیں جیسا کہ یہودیوں نے اپنی حدیثوں کی نسبت کہا مگر ہم حدیث کو خادم قرآن اور خادم سنّت قرار دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آقا کی شوکت خادموں کے ہونے سے بڑھتی ہے قرآن خدا کا قول ہے اور سنّت رسول اللہ کا فعل اور حدیث سنّت کے لئے ایک تائیدی گواہ ہے۔ نعوذ باللّٰہ یہ کہنا غلط ہے کہ حدیث قرآن پر قاضی ہے اگر قرآن پر کوئی قاضی ہے تو وہ خود قرآن ہے۔ حدیث جو ایک ظنی مرتبہ پر ہے قرآن کی ہرگز قاضی نہیں ہو سکتی صرف ثبوت مؤیّد کے رنگ میں ہے قرآن اور سنّت نے اصل کام سب کر دکھایا ہے اور حدیث صرف تائیدی گواہ ہے حدیث قرآن پر کیسے قاضی ہو سکتی ہے قرآن اور سنّت اُس زمانہ میں ہدایت کر رہے تھے جب کہ اس مصنوعی قاضی کا نام و نشان نہ تھا یہ مت کہو کہ حدیث قرآن پر قاضی ہے بلکہ یہ کہو کہ حدیث قرآن اور سنّت کے لئے تائیدی گواہ ہے البتہ سنّت ایک ایسی چیز ہے جو قرآن کا منشاء ظاہر کرتی ہے اور سنّت سے وہ راہ مراد ہے جس راہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر صحابہ کو ڈال دیا تھا سنّت اُن باتوں کا نام نہیں ہے جو سَو ڈیڑھ سَو برس بعد کتابوں میں لکھی گئیں بلکہ ان باتوں کا نام حدیث ہے اور سنّتؔ اس عملی نمونہ کا نام ہے جو نیک مسلمانوں کی عملی حالت میں ابتدا سے چلا آیا ہے جس پر ہزار ہا مسلمانوں کو لگایا گیا۔ ہاں حدیث بھی اگرچہ اکثر حصہ اُس کا ظن کے مرتبہ پر ہے مگر بشرط عدم تعارض قرآن و سنّت تمسک کے لائق ہے اور مؤیّد قرآن و سنّت ہے اور بہت سے اسلامی مسائل کا ذخیرہ اس کے اندر موجود ہے پس حدیث کا قدر نہ کرنا گویا ایک عضو اسلام کا کاٹ دینا ہے ہاں اگر ایک ایسی حدیث ہو جو قرآن اور سنّت کے نقیض ہو اور نیز ایسی حدیث کی نقیض ہو جو قرآن کے مطابق ہے یا مثلاً ایک ایسی حدیث ہو جو صحیح بخاری کے مخالف ہے تو وہ حدیث قبول کے لائق نہیں ہوگی کیونکہ اس کے قبول کرنے سے قرآن کو اور اُن تمام احادیث کو جو قرآن کے موافق ہیں ردّ کرنا پڑتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کوئی پرہیز گار اس پر جرأت نہیں کرے گا کہ ایسی حدیث پر عقیدہ رکھے کہ وہ قرآن اور سنّت کے برخلاف اور ایسی حدیثوں کے