ظاہر نہ کرے جو انبیائے گزشتہ کا وارث اوران کی نعمت پانے والا ہوتا پیشگوئی جو آیت 33 ۱؂سے مستنبط ہوتی ہے وہ بھی ایسی ہی پوری ہو جائے جیسا کہ یہودی اور عیسائی ہونے کی پیشگوئی پوری ہوگئی اور جس حالت میں اس اُمت کو ہزارہا بُرے نام دئے گئے ہیں اور قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہود ہو جانا بھی ان کے نصیب میں ہے تو اس صورت میں خدا کے فضل کا خود یہ مقتضا ہونا چاہئے تھاکہ جیسے گزشتہ نصاریٰ سے اِنہوں نے بُری چیزیں لیں اسی طرح وہ نیک چیز کے بھی وارث ہوں اسی لئے خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں آیت 3 میں بشارت دی کہ اس اُمت کے بعض افراد انبیائے گزشتہ کی نعمت بھی پائیں گے نہ یہ کہ نرے یہود ہی بنیں یا عیسائی بنیں اور ان قوموں کی بدی تو لے لیں مگر نیکی نہ لے سکیں۔ اسی کی طرف سورۃ تحریم میں بھی اشارہ کیا ہے کہ بعض افراد اُمت کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ مریمؔ صدیقہ سے مشابہت رکھیں گے جس نے پارسائی اختیار کی تب اُس کے رحم میں عیسیٰ کی روح پھونکی گئی اور عیسیٰ اس سے پیدا ہوا ۔اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس اُمت میں ایک شخص ہوگا کہ پہلے مریم کا مرتبہ اُس کو ملے گا پھر اُس میں عیسیٰ کی روح پھونکی جاوے گی تب مریم میں سے عیسیٰ نکل آئے گا یعنی وہ مریمی صفات سے عیسوی صفات کی طرف منتقل ہو جائے گا گویا مریم ہونے کی صفت نے عیسیٰ ہونے کا بچہ دیا اور اس طرح پر وہ ابن مریم کہلائے گا جیسا کہ براہین احمدیہ میں اوّل میرا نام مریم رکھا گیا اور اسی کی طرف اشارہ ہے الہام صفحہ۲۴۱ میں اور وہ یہ ہے کہ اَنّٰی لَکِ ھٰذَا یعنی اے مریم تو نے یہ نعمت کہاں سے پائی؟ اور اسی کی طرف اشارہ ہے صفحہ ۲۲۶میں یعنی اس الہام میں کہ ھز الیک بجذع النخلۃ یعنی اے مریم کھجور کے تنہ کو ہلا۔ اور پھر اُ س کے بعد صفحہ۴۹۶ براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ نفخت فیک من لدنی روح الصدق یعنی اے مریم تو مع اپنے دوستوں کے بہشت میں داخل ہو میں نے تجھ میں