ہمیں خبر دے دی کہ وہ ربّ العالمین ہے یعنی جہاں تک آبادیاں * ہیں اور جہاں تک کسی قسم کی مخلوق کا وجود موجود ہے خواہ اجسام خواہ ارواح اُن سب کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا خدا ہے جو ہر وقت ان کی پرورش کرتا ہے اور ان کے مناسب حال ان کا انتظام کر رہا ہے۔اورؔ تمام عالموں پر ہر وقت ہر دم اس کا سلسلہ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیّت اور جزاسزا کا جاری ہے اور یاد رہے کہ سورہ فاتحہ میں فقرہ مالک یوم الدین سے صرف یہ مراد نہیں ہے کہ قیامت کو جزا سزا ہوگی بلکہ قرآن شریف میں بار بار اور صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ قیامت تو مجازات کُبریٰ کا وقت ہے مگر ایک قسم کی مجازات اسی دنیا میں شروع ہے جس کی طرف آیت 3 ۱ اشارہ کرتی ہے۔ اب یہ بات بھی سنو کہ انجیل کی دعا میں تو ہر روزہ روٹی مانگی گئی ہے جیسا کہ کہا کہ ’’ ہماری روزانہ روٹی آج ہمیں بخش‘‘ مگر تعجب کہ جس کی ابھی تک زمین پر بادشاہت نہیں آئی وہ کیونکر روٹی دے سکتا ہے ابھی تک تو تمام کھیت اور تمام پھل نہ اُس کے حکم سے بلکہ خود بخود پکتے ہیں اور خود بخود بارشیں ہوتی ہیں اُس کا کیا اختیار ہے کہ کسی کو روٹی دے جب بادشاہت زمین پر آجائے گی تب اُس سے روٹی مانگنی چاہئے ابھی تو وہ ہر ایک زمینی چیز سے بے دخل ہے جب اس جائداد پر پورا قبضہ پائے گا تب کسی کو روٹی دے سکتا ہے اور اس وقت اس سے مانگنا بھی نا زیبا ہے اور پھر اس کے بعد یہ قول کہ جس طرح ہم اپنے قرض داروں کو بخشتے ہیں تو اپنے قرض کو ہمیں بخش دے اس صورت میں یہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ زمین کی بادشاہت ابھی اُس کو حاصل نہیں اور ابھی عیسائیوں نے کچھ اس کے ہاتھ سے لے کر کھا یانہیں تو پھر قرضہ کونسا ہوا۔ پس ایسے تہی دست خدا سے قرضہ بخشوانے کی کچھ ضرورت نہیں اور نہ اس سے کچھ خوف ہے کیونکہ زمین
پرابھی اس کی بادشاہت نہیں اور نہ اُس کی حکومت کا تازیانہ کوئی رعب بٹھلا سکتا ہے۔
دیکھو یہ لفظ ربّ العالمین کیسا جامع کلمہ ہے اگر ثابت ہو کہ اجرام فلکی میں آبادیاں ہیں تب بھی وہ آبادیاں اس کلمہ کے نیچے آئیں گی۔ منہ