ہر اؔ یک جزا اس کے ہاتھ میں ہے ہر ایک رحمت اُس کے ہاتھ میں ہے مگر انجیل یہ دعا سکھلاتی ہے کہ ابھی خدا کی بادشاہت تم میں نہیں آئی اُس کے آنے کے لئے خدا سے دعا مانگا کرو تا وہ آجائے یعنی ابھی تک ان کا خدا زمین کا مالک اور بادشاہ نہیں اس لئے ایسے خدا سے کیا امید ہو سکتی ہے سنو اور سمجھو کہ بڑی معرفت یہی ہے کہ زمین کا ذرہ ذرہ بھی ایسا ہی خدا کے قبضہ اقتدار میں ہے جیسا کہ آسمان کا ذرہ ذرہ خدا کی بادشاہت میں ہے اور جیسا کہ آسمان پر ایک عظیم الشان تجلّی ہے زمین پر بھی ایک عظیم الشان تجلّی ہے بلکہ آسمان کی تجلّی تو ایک ایمانی امر ہے عام انسان نہ آسمان پر گئے نہ اُس کا مشاہدہ کیا مگر زمین پر جو خدا کی بادشاہت کی تجلّی ہے وہ تو صریح ہر ایک شخص کو آنکھوں سے نظر آرہی ہے* ۔ہر ایک انسان خواہ کیسا ہی دولتمند ہو اپنی خواہش کے مخالف موت کا پیالہ پیتا ہے پس دیکھو اس شاہ حقیقی کے حکم کی کیسی زمین پر تجلّی ہے کہ جب حکم آجاتا ہے تو کوئی اپنی موت کو ایک سیکنڈ بھی روک نہیں سکتا۔ ہر ایک خبیث اور ناقابل علاج مرض جب دامن گیر ہوتی ہے تو کوئی طبیب ڈاکٹر اس کو دور نہیں کر سکتا۔ پس غور کرو یہ کیسی خدا کی بادشاہت کی زمین پر تجلی ہے جو اُس کے حکم ردّ نہیں ہو سکتے۔ پھر کیونکر کہا جائے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں بلکہ آئندہ کسی زمانہ میں آئے گی دیکھو اسی زمانہ میں خدا کے آسمانی حکم نے طاعون کے ساتھ زمین کو ہلادیا تا اس کے مسیح موعود کے لئے ایک نشان ہو پس کون ہے جو اس کی مرضی کے سوا اس کو دور کر سکے پس کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔ ہاں ایک بدکار قیدیوں کی طرح اس کی زمین میں زندگی بسر کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کبھی نہ مرے لیکن خدا کی سچی بادشاہت اس کو ہلاک کر دیتی ہے اور وہ آخر پنجہ ملک الموت میں گرفتار ہو جاتا ہے پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ
آیت 3 ۱ بھی دلالت کر رہی ہے کہ خدا کا حقیقی مطیع انسان ہی ہے جو اپنی اطاعت کو محبت اور عشق تک پہنچاتا ہے اور خدا کی بادشاہت کو ہزار ہا بلاؤں کو سر پر لے کر زمین پر ثابت کرتا ہے پس یہ طاعت جو دردِ دل سے ملی ہوئی ہے فرشتے اس کو کب بجا لاسکتے ہیں۔ منہ