جاتے ہیں اور دین کے رو سے وہ نرامفلس اور ننگا ہوتا ہے اور آخر دنیا کے خیالات میں ہی مرتا اور ابدی جہنم میں ڈالا جاتا ہے اور کبھی اس رنگ میں بھی امتحان ہوتا ہے کہ دنیا سے بھیؔ نامُراد رکھا جاتا ہے مگر مؤخرالذکر امتحان ایسا خطرناک نہیں جیسا کہ پہلا کیونکہ پہلے امتحان والا زیادہ مغرور ہوتا ہے بہر حال یہ دونوں فریق مغضوب علیھم ہیں۔ سچی خوش حالی کا سر چشمہ خدا ہے پس جبکہ اس حیّ وقیّوم خدا سے یہ لوگ بے خبر ہیں بلکہ لاپروا ہیں اور اس سے ُ منہ پھیر رہے ہیں تو سچی خوشحالی اُن کو کہاں نصیب ہو سکتی ہے مبارکی ہو اُس انسان کو جو اس راز کو سمجھ لے اور ہلاک ہوگیا وہ شخص جس نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ اسی طرح تمہیں چاہئے کہ اس دنیا کے فلسفیوں کی پیروی مت کرو اور ان کو عزت کی نگہ سے مت دیکھو کہ یہ سب نادانیاں ہیں سچا فلسفہ وہ ہے جو خدا نے تمہیں اپنی کلام میں سکھلایا ہے ہلاک ہوگئے وہ لوگ جو اس دنیوی فلسفہ کے عاشق ہیں اور کامیاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے سچے علم اور فلسفہ کو خدا کی کتاب میں ڈھونڈا۔ نادانی کی راہیں کیوں اختیار کرتے ہو کیا تم خدا کو وہ باتیں سکھلاؤ گے جو اُسے معلوم نہیں ۔کیا تم اندھوں کے پیچھے دوڑتے ہو کہ وہ تمہیں راہ دکھلاویں۔ اے نادانو! وہ جو خود اندھا ہے وہ تمہیں کیا راہ دکھائے گابلکہ سچا فلسفہ روح القدس سے حاصل ہوتا ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے تم روح کے وسیلہ سے ان پاک علوم تک پہنچائے جاؤ گے جن تک غیروں کی رسائی نہیں اگر صدق سے مانگو تو آخر تم اُسے پاؤ گے۔ تب سمجھو گے کہ یہی علم ہے جو دل کو تازگی اور زندگی بخشتا ہے اور یقین کے مینار تک پہنچا دیتا ہے وہ جو خود مُردار خوار ہے وہ کہاں سے تمہارے لئے پاک غذالائے گا۔ وہ جو خوداندھا ہے وہ کیونکر تمہیں دکھاوے گا ۔ہر ایک پاک حکمت آسمان سے آتی ہے پس تم زمینی لوگوں سے کیا ڈھونڈتے ہو جن کی روحیں آسمان کی طرف جاتی ہیں وہی حکمت کے وارث ہیں جن کو خود تسلی نہیں وہ کیونکر تمہیں تسلی دے سکتے ہیں مگر پہلے دلی پاکیزگی ضروری ہے پہلے صدق و صفا ضروری ہے پھر بعد اس کے یہ سب کچھ تمہیں ملے گا۔یہ خیال مت کرو کہ خدا کی وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے* اور قرآن شریف پر شریعت ختم ہوگئی مگر وحی ختم نہیں ہوئی کیونکہ وہ سچے دین کی جان ہے جس دین میں وحی الٰہی کا سلسلہ جاری نہیں وہ دین مُردہ ہے اور خدا اُس کے ساتھ نہیں۔ منہ