پیش کرتے ہیں اور اُس کی بے انتہا قدرتوں کی حد بست ٹھہراتے ہیں اور اُس کو کمزور سمجھتے ہیں سو ان سے ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا جیسا کہ ان کی حالت ہے لیکن جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہوگی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں اور ہماری گواہی رویت سے ہے نہ بطور قصّہ کے۔ اُس شخص کی دعا کیونکر منظور ہو اور خود کیونکر اس کو بڑی مشکلات کے وقت جو اُس کے نزدیک قانون قدرت کے مخالف ہیں دعا کرنے کا حوصلہ پڑے جو خدا کو ہر ایک چیز پر قادر نہیں سمجھتا۔ مگر اے سعید انسان تو ایسا مَتْ کر تیرا خدا وہ ہے جس نے بیشمار ستاروں کو بغیر ستون کے لٹکا دیا اورجس نے زمین وآسمان کو محض عدم سے پیدا کیا ۔کیا تو اُس پر بدظنی رکھتا ہے کہ وہ تیرے کام میں عاجز آجائے گا *بلکہ تیری ہی بدظنی تجھے محروم رکھے گی ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اس کے ہو گئے ہیں وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اُس کے صادق وفادارنہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔ کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوب صورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لایق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو خدا کسی کام میں عاجز نہیں آتا۔ ہاں خدا کی کتاب نے دعا کے بارہ میں یہ قانون پیش کیا ہے کہ وہ نہایت رحم سے نیک انسان کے ساتھ دوستوں کی طرح معاملہ کرتا ہے یعنی کبھی تو اپنی مرضی کو چھوڑ کر اس کی دعا سنتا ہے جیسا کہ خود فرمایا 3 ۱؂ اور کبھی کبھی اپنی مرضی ہی منوانا چاہتا ہے جیسا کہ فرمایا 3 ۲؂ ایسا اس لئے کیا کہ تا کبھی انسان کی دعا کے موافق اس سے معاملہ کر کے یقین اور معرفت میں اس کو ترقی دے اور کبھی اپنی مرضی کے موافق کر کے اپنی رضا کی اس کو خلعت بخشے اور اس کا مرتبہ بڑھا وے اور اس سے محبت کر کے ہدایت کی راہوں میں اس کو ترقی دیوے۔ منہ