کے خیال نے لاکھوں کو ہلاک کر دیا گویا خدا نے اس کو ہمیشہ کے لئے اس لئے زندہ رہنے دیا کہ تا لوگ مشرک اور بے دین ہو جائیں اور گویا یہ لوگوں کی غلطی نہیں بلکہ خدا نے یہ سب کچھ خود کیا تا لوگوں کو گمراہ کرے خوب یاد رکھو کہ بجز موت مسیح صلیبی عقیدہ پر موت نہیں آسکتی سو اس سے فائدہ کیا کہ برخلاف تعلیم قرآن اس کو زندہ سمجھا جائے اس کو مرنے دو تا یہ دین زندہ ہو۔ خدا نے اپنے قول سے مسیح کی موت ظاہر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اُس کو مُردوں میں دیکھ لیا اب بھی تم ماننے میں نہیں آتے۔ یہ کیسا ایمان ہے کیا انسانوں کی روایتوں کو خدا کی کلام پر مقدم رکھتے ہویہؔ کیا دین ہے* اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف گواہی دی کہ میں نے مُردہ روحوں میں عیسیٰ کو دیکھا بلکہ خود مر کر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ اس سے پہلے کوئی زندہ نہیں رہا۔ پس ہمارے مخالف جیسا کہ قرآن کو چھوڑتے ہیں ویسا ہی سنّت کو بھی چھوڑتے ہیں کیونکہ مرنا ہمارے نبی کی سنّت ہے اگر عیسیٰ زندہ تھا تو مرنے میں ہمارے رسول کی بے عزتی تھی سو تم نہ اہلسنّت ہو نہ اہل قرآن جب تک عیسیٰ کی موت کے قائل نہ ہو۔ اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان کا منکر نہیں گو خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے لیکن تاہم میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں کیونکہ میں روحانیت کی رو سے اسلام میں خاتم الخلفاء ہوں جیساکہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں مَیں مسیح موعود ہوں سو میں اس کی عزت کرتا ہوں جس کا ہم نام ہوں اور مفسد اور مفتری ہے نوٹ۔قرآن شریف میں ایک آیت میں صریح کشمیر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسیح اور اس کی والدہ صلیب کے واقعہ کے بعد کشمیر کی طرف چلے گئے جیسا کہ فرماتا ہے۔3 ۱؂ یعنی ہم نے عیسیٰ اور اس کی والدہ کو ایک ایسے ٹیلے پر جگہ دی جو آرام کی جگہ تھی اور پانی صاف یعنی چشموں کا پانی وہاں تھا سو اس میں خدا تعالیٰ نے کشمیر کا نقشہ کھینچ دیا ہے اور اٰوٰی کا لفظ لغت عرب میں کسی مصیبت یا تکلیف سے پناہ دینے کے لئے آتا ہے اور صلیب سے پہلے عیسیٰ اور اُس کی والدہ پر کوئی زمانہ مصیبت کا نہیں گزرا جس سے پناہ دی جاتی پس متعین ہوا کہ خدا تعالیٰ نے عیسیٰ اور اُس کی والدہ کو واقعہ صلیب کے بعد اُس ٹیلے پر پہنچایا تھا۔ منہ