جب قرآن اور کشف کا تظاہر ہوگیا بلکہ بعض حدیثوں نے بھی اِس کی تائید کی تو پھر تو اس کے قول کو قبول کرنا چاہئے ورنہ مسیح موعود کا نام حَکَم رکھنا کیا فائدہ۔
بعض چالاک مولوی کہتے ہیں کہ اگر کوئی آسمان سے بھی اُترے اور یہ کہے کہ فلاں فلاں حدیث جو تم مانتے ہو صحیح نہیں ہے تو ہم کبھی قبول نہ کریں گے اور اُس کے منہ پر طمانچہ ماریں گے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ ہاں حضرات آپ کے وجود پر یہی اُمید ہے۔ مگر ہم بادب عرض کرتے ہیں کہ پھر وہ حَکَم کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت صحیح بخاری میں آیا ہے اُس کے ذرہ معنی تو کریں ہم تو اب تک یہی سمجھتے تھے کہ حَکَم اُس کو کہتے ہیں کہ اختلاف رفع کرنے کے لئے اُس کا حکم قبول کیا جائے اور اُس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے جو شخص خدا کی طرف سے آئے گا وہ آپ کے طمانچے کھانے کو تو نہیں آئے گا خدا تعالیٰ اُس کے لئے خود راہ نکال دے گا۔ جس شخص کو خدا نے کشف اور الہام عطا کیا اور بڑے بڑے نشان اُس کے ہاتھ پر ظاہر فرمائے اور قرآن کے ؔ مطابق ایک راہ اُس کو دکھلادی تو پھر وہ بعض ظنّی حدیثوں کے لئے اس روشن اور یقینی راہ کو کیوں چھوڑے گا اور کیا اُس پر واجب نہیں ہے کہ جو کچھ خدا نے اُس کو دیا ہے اُس پر عمل کرے اور اگر خدا کی پاک وحی سے حدیثوں کا کوئی مضمون مخالف پاوے اور اپنی وحی کو قرآن سے مطابق پاوے اور بعض حدیثوں کو بھی اُس کی مؤیّد دیکھے تو ایسی حدیثوں کو چھوڑ دے اور اُن حدیثوں کو قبول کرے جو قرآن کے مطابق ہیں اور اُس کی وحی کے مخالف نہیں۔
مجھے حیرت ہے کہ ایڈوکیٹ صاحب کس قسم کی طبیعت رکھتے ہیں کہ یہ تو آپ مانتے ہیں کہ پہلے اولیاء ایسے گزرے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضوری سے صحیح حدیث کو غلط ٹھہراتے اور غلط کو صحیح ٹھہراتے تھے مگر آپ کو شرم آتی ہے کہ یہ مرتبہ مسیح موعود کو بھی جو حَکَم ہے عنایت کریں۔ اور تعجب کہ آپ کے پیرو کس قسم کے ہیں کہ اُن کو یہ نہیں پوچھتے کہ دوسرے اولیاء کے تو یہ اختیارات ہیں پھر حَکَم کو ان اختلافات کی وجہ سے کیوں کافر ٹھہراتے ہو اور کیوں خدا سے نہیں ڈرتے۔ مَیں تعجب کرتا ہوں کہ پیرانہ سالی کی وجہ سے مولوی محمد حسین صاحب کے حافظہ پر کیسے پتھر پڑگئے یاد نہ رہا کہ