کہا جاوے۔ پس اِس اُمّت کا یہود بننا جیسا کہ آیت 3 ۱سےؔ سمجھا جاتا ہے اِس بات کو چاہتا ہے کہ جو یہود مغضوب علیہم کے مقابل مسیح آیا تھا اس کا مثیل بھی اس اُمّت میں سے آوے۔ اِسی کی طرف تو اِس آیت کا اشارہ ہے۔33َ 3 ۲ افسوس کہ وہ حدیث بھی اِسی زمانہ میں پوری ہوئی جس میں لکھا تھا کہ مسیح کے زمانہ کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہوں گے اور پہلے یہودیوں پر ہم کیا افسوس کریں وہ تو اعتراض کے وقت کتاب اللہ کو پیش کرتے تھے گو معنے نہیں سمجھتے تھے۔ مگر یہ لوگ صرف مَن گھڑت باتیں پیش کرتے ہیں۔ اور یہود تو حضرت عیسیٰ کے معاملہ میں اور اُن کی پیشگوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہ احسان قرآن کا اُن پر ہے کہ اُن کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔ اِسی وجہ سے ہم اُن پر ایمان لائے کہ وہ سچے نبی ہیں اور برگزیدہ ہیں۔ اور اُن تہمتوں سے معصوم ہیں جو اُن پر اور اُن کی ماں پر لگائی گئی ہیں۔ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ بڑی تہمتیں اُن پر دو تھیں۔
(۱) ایک یہ کہ اُن کی پیدائش نعوذ باللہ *** ہے یعنی وہ ناجائز طور پر پیدا ہوئے۔
(۲) دوسری یہ کہ اُن کی موت بھی *** ہے کیونکہ وہ صلیب کے ذریعہ سے مرے ہیں اور توریت میں لکھا تھا کہ جو ولد الزنا ہو وہ ملعون ہے وہ ہرگز بہشت میں داخل نہیں ہوگا اور اُس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوگا۔ اور ایسا ہی یہ بھی لکھا تھا کہ جو لکڑی پر لٹکایا جائے یعنی جس کی صلیب کے ذریعہ سے موت ہو وہ بھی *** ہے اور اُس کا بھی خدا کی طرف رفع نہیں ہوگا یہ دونوں اعتراض بڑے سخت تھے۔ خدا نے قرآن شریف میں اِن دونوں اعتراضات کا ایک ہی جگہ جواب دیا ہے اور وہ یہ ہے۔