کو جھوٹی تو ثابت کریں اور ہر ایک پیشگوئی کے لئے ایک ایک سوروپیہ انعام دیا جائے گا اور آمدورفت کا کرایہ علیحدہ۔ لیکن اس تفتیش کے وقت منہاج نبوت کو معیار صدق و کذب کے لئے ٹھہراویں۔ میں یقیناًکہتا ہوں کہ اگر میرے معجزات اور پیشگوئیاں اُن کے نزدیک صحیح نہیں تو اُن کو تمام انبیاء علیہم السلام سے انکار کرنا پڑے گا۔ اور آخر ان کی موت کفر پر ہوگی۔
افسوس کہ یہ لوگ خدا سے نہیں ڈرتے۔ انبار در انبار اُن کے دامن میں جھوٹ کی نجاست ہے۔ عیسائیوں اور یہودیوں کی پَیروی کرتے ہیں۔ عیسائی کہا کرتے تھے کہ اگر آنحضرتؐ کے لئے قرآن شریف میں فتح کی پیشگوئی کی گئی تھی تو آپ نے جنگیں کیوں کیں اور دشمنوں کو حیلوں تدبیروں سے قتل کیوں کیا۔ آج اِسی قسم کے اعتراض یہ لوگ پیش کررہے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ احمد بیگ کی لڑکی کے لئے ان کے تالیف قلوب کے لئے حیلوں سے کیوں کوشش کی گئی اور کیوں احمدبیگ کی طرف ایسے خط لکھے گئے مگر افسوس کہ یہ دونوں یعنی عیسائی اور یہ نئے یہود یہ نہیں سمجھتے کہ پیشگوئیوں میں جائز کوشش کو حرام نہیں کہا گیا۔ جس شخص کو خدا یہ خبر دے کہ فلاں بیمار اچھا ہو جائیگا اُس کو منع نہیں ہے کہ وہ دَوا بھی کرے کیونکہ شاید دوا کے ذریعہ سے اچھا ہونا مقدر ہو۔ غرض ایسی کوشش کرنا نہ عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک ممنوع ہے نہ اسلام میں۔ مولوی ثناء اللہ نے اِسی مُدّ کے مباحثہ میں یہ اعتراض بھی پیش کیا ہے کہ جو ذلّت کی پیشگوئی محمد حسین اور جعفرز ٹلی اور ان کے دوسرے رفیق کی نسبت کی گئی تھی وہ پوری نہیں ہوئی۔ اگر یہ لوگ ایسے اعتراض نہ کرتے تو پھر یہود سے مشابہت کیونکر ہوتی۔ میرے نزدیک ضروری تھا کہ ایسے اعتراض ہوتے۔ اے بھلے مانس جسؔ حالت میں اسی مقدمہ کے اثنا میں مولوی محمد حسین کی وہ تحریر پکڑی گئی جو فتویٰ تکفیر کے مخالف ہے۔ تو کیا ایک عالمانہ حیثیت کی نظر سے اس کی ذلّت اور رُسوائی نہیں ہوئی یعنی میرے مقابل پر تو اُس نے اشاعۃ السُّنّہ میں مہدی موعود کا انکار کفر قرار دیا اور شور مچایا کہ یہ شخص اسلام کے عقیدہ مسلّمہ کے مخالف ہے۔ اور حق یہی ہے کہ مہدی موعود ظاہر ہوگا اور مسیح آسمان سے نازل ہوگا اور پھر گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے مہدی کا انکار کردیا وہ رسالہ اُس کا پکڑا گیا