مجھے اس غلطی کا مرتکب کر کے کہ مَیں نے عیسیٰ کی آمدثانی کا اسی کتاب میں ذکر کر دیا جہاں میرے مسیح موعود ہونے کا ذکر تھا میری سادگی اور عدم افترا کو ظاہر کر دیا۔ ورنہ کیا شک تھا کہ وہ سب الہامات جو براہین احمدیہ میں مندرج ہیں جو مجھے مسیح موعود بناتے ہیں وہ تمام افترا پر محمول ہوتے اور یہ بات تو کوئی عقل سلیم قبول نہیں کرے گی کہ جو دعویٰ مسیح موعود ہونے کا براہین احمدیہ سے بارہ سال بعد پیش کیا گیا اس کا منصوبہ اتنی مدّت پہلے بنا رکھا تھا۔ غرض اسی کتاب میں جس میں میرے مسیح موعود ہونے کا ذکر ہے حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا بھی ذکر ہونا یہی میری سادگی اور عدم افتراپر ایک زندہ گواہ ہے۔ افسوس کہ ہمارے مخالفوں کی کچھ ایسی عقل ماری گئی ہے کہ وہ ہر ایک بات کی ایک ٹانگ لے لیتے ہیں اور دوسری چھوڑ دیتے ہیں۔ آتھم عیسائی کے ذکر کے وقت شرط کا نام نہیں لیتے اور اس کا پیشگوئی کے مطابق مَر جانا اور داخل قبر ہو جانا جو پہلے سے بیان کیا گیا تھا زبان پر نہیں لاتے اورؔ جن واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ آتھم نے آنحضرت صلعم کو دجّال کہنے سے رجوع کیا اُن واقعات کا نام نہیں لیتے۔ کیا مجال کہ اُن واقعات کی طرف اشارہ بھی کریں سب کھا جاتے ہیں اور جب احمد بیگ کے داماد کا ذکر کرتے ہیں تو ہرگز لوگوں کو نہیں بتلاتے کہ ایک حصّہ اس پیشگوئی کا میعاد کے اندر پورا ہو چکا ہے یعنی احمد بیگ میعاد کے اندر مر گیا اور دوسرا حصّہ قابلِ انتظار ہے اور یہ بھی نہیں بتلاتے کہ پیشگوئی وعید کے متعلق اورنیز شرطی تھی جیسا کہ الہام توبی توبی فان البلاء علٰی عقبک سے ظاہر ہوتا ہے جو کئی دفعہ شائع ہو چکا تھا اور ظاہر ہے کہ ایسی موت کے بعد جو احمد بیگ کی موت تھی خوف دامنگیرہونا ایک طبعی امر تھا۔ پس اُسی خوف سے دوسرے حصہ کے پورے ہونے میں تاخیر ہوگئی جیسا کہ وعید کی پیشگوئیوں میں عادت اللہ ہے۔ مگر یہ بد اندیش مخالف ان امور کا کبھی ذکر بھی نہیں کرتے۔ اور یہودیوں کی طرح اصل صورتِ حال کو مسخ کر کے ایسے طور سے تقریر کرتے ہیں جس سے جاہلوں کے دِلوں میں شبہات ڈال دیں بلکہ ان لوگوں نے تو یہودیوں کے بھی کان کاٹے کیونکہ یہ لوگ تو