ہوئےؔ نہیں سنتا اور سمجھتے ہوئے نہیں سمجھتا۔ مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ نشان جو میرے لئے ظاہر کئے گئے اور میری تائید میں ظہور میںآئے۔ اگر اُن کے گواہ ایک جگہ کھڑے کئے جائیں تو دنیا میں کوئی بادشاہ ایسا نہ ہوگا جو اُس کی فوج ان گواہوں سے زیادہ ہو۔ تاہم اِس زمین پر کیسے کیسے گناہ ہورہے ہیں کہ ان نشانوں کی بھی لوگ تکذیب کررہے ہیں۔
آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی اور زمین نے بھی۔ مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ مَیں وہی ہوں جس کے وقت میں اُونٹ بیکار ہوگئے اور پیشگوئی آیت کریمہ 3 ۱ پوری ہوئی۔ اور پیشگوئی حدیث ولیترکن القلاص فلا یسعٰی علیھا نے اپنی پوری پوری چمک دکھلادی۔ یہاں تک کہ عرب اور عجم کے اڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اُٹھے کہ مدینہ اور مکّہ کے درمیان جوریل طیّار ہورہی ہے یہی اُس پیشگوئی کا ظہور ہے جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔ ایسا ہی خدا کی تمام کتابوں میں خبردی گئی تھی کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پھیلے گی اور حج روکا جائے گا اور ذوالسنین ستارہ نکلے گا۔ اور ساتویں ہزار کے سر پر وہ موعود ظاہر ہوگاجو مقدّر ہے جو دمشق کے شرقی سمت میں اس کا ظہور ہو اور نیز وہ صدی کے سر پراپنے تئیں ظاہر کرے گا جبکہ صلیب کا بہت غلبہ ہوگا۔ سو آج وہ سب باتیں پوری ہوگئیں اور میری تائید میں میرے ہاتھ پر خدا نے بڑے بڑے نشان دکھلائے۔ آتھم کی موت ایک بڑا نشان تھا جو پیشگوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ بارا۱۲ ں برس پہلے براہین احمدیہ میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اور ایک حدیث بھی اس واقعہ کی خبردے رہی تھی مگر شریر لوگوں نے اس پر ٹھٹھا کیا اور قبول نہ کیا اور اس پیشگوئی کی میعاد شرطی تھی اور پیشگوئی اس لئے نہیں کی گئی تھی کہ وہ عیسائی ہے بلکہ جیسا کہ اس مباحثہ کے رسالہ میں جس کا نام عیسائیوں نے جنگِ مقدس رکھا ہے لکھا ہے سبب اس پیشگوئی کرنے کا یہی تھا کہ اُس نے اپنی کتاب ’’اندرونہ بائبل‘‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دجّال رکھا تھا۔ سو اُس کو پیشگوئی کرنے کے وقت قریباً ستّر۷۰ آدمیوں کے رُو برو سُنا دیا گیا تھا کہ سبب اس پیشگوئی کا یہی