اپنے گروہ کے چھڑانے کے لئے اور طاعون سے نجات دلانے کے لئے یہ انتظام کریں کہ اپنے اس خدا سے جس پر وہ ایمان رکھتے ہیں یا اپنے کسی اور معبود سے جس کو انہوں نے بجائے خدا سمجھ لیا ہے ان مصیبت زدوں کی شفاعت کریں اور اس سے کوئی پختہ وعدہ لے کر اشتہارات کے ذریعہ سے شائع کر دیں جیسا کہ ہم نے یہ اشتہار شائع کر دیا ہے۔ اس میں تو سراسرمخلوق کی بھلائی اور اپنے مذہب کی سچائی کا ثبوت ہے اور نیز گورنمنٹ کی مدد ہے۔ گورنمنٹ بجز اس کے کیا چاہتی ہے کہ اس کی رعایا طاعون کی بلا سے بچ جائے گو کسی طرح بچ جائے۔ بالآخر یاد رہے کہ ہم اِس اشتہار میں اپنی جماعت کو جو مختلف حصوں پنجاب اور ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہے ٹیکا لگوانے سے منع نہیں کرتے جن لوگوں کی نسبت گورنمنٹ کا قطعی حکم ہو ان کو ضرور ٹیکا کرانا چاہئے اور گورنمنٹ کے حکم کی اطاعت کرنی چاہئے اور جن کو اپنی رضامندی پر چھوڑا گیا ہے اگر وہ اس تعلیم پر پورے قائم نہیں ہیں جو ان کو دی گئی ہے تو ان کو بھی ٹیکا کرانا مناسب ہے تا وہ ٹھوکر نہ کھاویں اور تا وہ اپنی خراب حالت کی وجہ سے خدا کے وعدہ کی نسبت لوگوں کو دھوکا نہ دیں اور اگر یہ ؔ سوال ہو کہ وہ تعلیم کیا ہے جس کی پوری پابندی طاعون کے حملہ سے بچا سکتی ہے تو میں بطور مختصر چند سطریں نیچے لکھ دیتا ہوں۔ تعلیم واضح رہے کہ صرف زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے جب تک دل کی عزیمت سے اس پر پورا پورا عمل نہ ہو پس جو شخص میری تعلیم پر پورا پورا عمل کرتا ہے وہ اس میرے گھر میں داخل ہو جاتا ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ کی کلام میں یہ وعدہ ہے اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چاردیوار کے اندر ہے میں اس کو بچاؤں گا اس جگہ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہی لوگ میرے گھر کے اندر ہیں جو میرے اس خاک و خشت کے گھر میں بودوباش رکھتے ہیں بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں میرے روحانی گھر میں داخل ہیں پیروی کرنے کے لئے یہ باتیں ہیں کہ وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیوم اور خالق الکل خدا ہے جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔ نہ وہ کسی کا بیٹا نہ کوئی اس کا بیٹا وہ دکھ اُٹھانے اور صلیب پر