انہوں نے اپنے تئیں مسلمان ظاہر کیا ہے اور میں نے دیکھا کہ ایک ہندو ان کے چشمہ سے پانی پی رہا ہے پس میں نے اس ہندو کو کہا کہ یہ چشمہ گدلا ہے ہمارے چشمے سے پانی پیو۔ تیس برس کا عرصہ ہوا ہے جب کہ میں نے یہ خواب یعنی باوانانک صاحب کو مسلمان دیکھا اسی وقت اکثر ہندوؤں کو سنایا گیا تھا اور مجھے یقین تھا کہ اس کی کوئی تصدیق پیدا ہو جائے گی چنانچہ ایک مدت کے بعد وہ پیشگوئی بکمال صفائی پوری ہو گئی اور تین سو برس کے بعد وہ چولہ ہمیں دستیاب ہو گیا کہ جو ایک صریح دلیل باوا صاحب کے مسلمان ہونے پر ہے یہ چولہ جو ایک قسم کا پیراہن ہے بمقام ڈیرہ نانک باوا نانک صاحب کی اولاد کے پاس بڑی عزت اور حرمت سے بطور تبرک محفوظ ہے اور سکھوں کی تاریخی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس چولہ کو باوا نانک صاحب پہنا کرتے تھے اس پر بہت سی قرآنی آئتیں لکھی ہوئی ہیں جن میں سے ایک یہ سورۃ ہے ۱؂ اور ایک یہ آیت ہے ۲؂ ۳؂ ایسے چولے باوا نانک صاحب کے زمانہ میں وہ فقیر بنایا کرتے تھے جن کا دعویٰ تھا کہ ہم اسلام میں محو ہیں پس باوا صاحب کا یہ چولہ آپ کو صرف مسلمان ہی نہیں بناتا بلکہ کامل مسلمان بناتا ہے بعض سکھوں کا اس نشان کے متعلق الہامات کے قبل از وقت سننے والے بہت سارے لوگ ہیں۔ منجملہ ان کے صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی اور شیخ حامد علی صاحب اور شیخ عبداللہ صاحب سنوری۔ منشی تاج الدین صاحب