سے رجوع کرتے ہیں ماسوا س کے یہ عاجز بھی تو قانون قدرت کے تحت میں ہے اگر میری طرف سے بنیاد اس پیشگوئی کی صرف اسی قدر ہے کہ میں نے صرف یا وہ گوئی کے طور پر چند احتمال *بیماریوں کو ذہن میں رکھ کر اور اٹکل سے کام لے کر یہ پیشگوئی شائع کی ہے تو جس شخص کی نسبت یہ پیشگوئی ہے وہ بھی تو ایسا کر سکتا ہے کہ انہی اٹکلوں کی بنیاد پر میری نسبت کوئی پیشگوئی کر دے بلکہ میں راضی ہوں کہ بجائے چھ برس کے جو میں نے اس کے حق میں معیاد مقرر کی ہے وہ میرے لئے دس۱۰ برس لکھ دے۔ لیکھرام کی عمر اس وقت شاید زیادہ سے زیادہ تیس۳۰ برس کی ہو گی اور وہ ایک جوان قوی ہیکل عمدہ صحت کا آدمی ہے اور اس عاجز کی عمر اس وقت پچاس برس سے کچھ زیادہ ہے اور ضعیف اور دائم المرض اور طرح طرح کے عوارض میں مبتلا ہے پھر باوجود اس کے مقابلے میں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون سی بات انسان کی طرف سے ہے اور کون سی بات خدا تعالیٰ کی طرف سے۔ اور معترض کا یہ کہنا کہ ایسی پیشگوئیوں کا اب زمانہ نہیں ہے ایک معمولی فقرہ ہے جو اکثر لوگ مُنہ سے بول دیا کرتے ہیں۔ میری دانست میں تو مضبوط اور کامل صداقتوں کے قبول کرنے کے لئے یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ شائد اس کی نظیر پہلے زمانوں میں کوئی بھی مل نہ سکے ۔ ہاں اس زمانہ سے کوئی فریب اور مکر مخفی نہیں رہ سکتا مگر یہ تو راستبازوں کے لئے اور بھی خوشیؔ کا مقام ہے کیونکہ جو شخص فریب اور سچ میں فرق کرنا جانتا ہے وہی سچائی کی دل سے عزت کرتا ہے اور بخوشی اور دوڑ کر سچائی کو قبول کر لیتا ہے
محمد علی صاحب ایم اے ایل ایل بی پلیڈر قادیان۔ مولوی غلام قادر صاحب
سب رجسٹرار پشاور۔ میر ناصر نواب صاحب دہلوی۔ مفتی محمد صادق صاحب