جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مجھے خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں
یاد رہے کہ یہ وہی اشعار اور وہی آخر پر نشان ہاتھ کا ہے جو لیکھرام کی موت کی طرف پیشگوئی کرتا ہے جس کو ہم نے لیکھرام کی موت اور اس کے مجروح ہونے سے پانچ برس پہلے آئینہ کمالات اسلام میں لکھا ہے اور اس نقل میں کوئی تصرف نہیں بجز اس کے کہ آئینہ کمالات اسلام میں لیکھرام کا لفظ موٹے قلم سے لکھ کر تصویر کی طرح لٹا دیا گیا ہے اور اس جگہ وہ لاش کی تصویر ہی لکھ دی ہے جس کو خود آریوں نے نظارہ کے لئے شائع کیا ہے۔ اب ان تمام اشعار سے ظاہر ہے کہ لیکھرام کی موت کے لئے ایک تیغ برّان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پھر اس پیشگوئی کو نہایت وضاحت کے ساتھ ٹائیٹل پیج برکات الدعا میں اخبار انیس ہند میرٹھ کے بعض اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے بیان کیا گیا ہے چنانچہ ہم اس جگہ بجنسہٰ وہ عبارت جو لیکھرام کی موت سے کئی برس پہلے شائع ہو چکی ہے ٹائیٹل پیج برکات الدعا سے نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔
نمونہ دعائے مستجاب
انیس ہند میرٹھ اور ہماری پیشگوئی پر اعتراض
اس اخبار کاپرچہ مطبوعہ ۲۵؍ مارچ ۱۸۹۳ ء جس میں میری اس پیشگوئی کی نسبت جو لیکھرام پشاوری کے بارے میں مَیں نے شائع کی تھی کچھ نقطہ چینی ہے مجھ کو ملا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض اور اخباروں پر بھی یہ کلمۃ الحق شاق گذرا ہے اور حقیقت میں میرے لئے خوشی کا مقام ہے کہ یوں خود مخالفوں کے ہاتھوں اس کی شہرت اور اشاعت ہو رہی ہے۔ سو میں اس وقت اس نکتہ چینی کے جواب
شیخ فضل الٰہی آنریری مجسٹریٹ بھیرہ۔ جیون سنگھ نمبردار بھاٹانوالہ۔ ملاوامل۔
شرمپت آریہ قادیان۔ ملاوامل لاہوری۔ جوالا سنگھ نمبردار کوٹلومان تحصیل رعیہ