جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں تو اس وقت سات آدمی بھی میرے ساتھ تھے مگر اس کے بعد ان دنوں میں ہزار ہا انسانوں نے بیعت کی خاص کر طاعون کے دنوں میں جس قدر جوق در جوق بیعت میں داخل ہوئے اس کا تصور خدا کی قدرت کا ایک نظارہ ہے۔ گویا طاعون دوسروں کو کھانے کے لئے اور ہمارے بڑھانے کے لئے آئی۔ ابھی معلوم نہیں کہ طاعون کی برکت سے کیا کچھ ترقی ہو گی۔ اسی برس میں تمام بیعت کرنے والوں نے اپنے ذمّہ لے لیا کہ کچھ نہ کچھ ماہانہ اس سلسلہ کی مدد میں نذر کیا کریں سو اس ایک ہی برس میں ہزارہا روپیہ کی آمدن ہوئی اور ہزارہا لوگ بیعت میں داخل ہوئے اور داخل ہوتے ہیں اور وہ الہام کہ یأتیک من کل فج عمیق و یأتون من کل فج عمیق۔ عین طاعو ن کے دنوں میں پورا ہوا۔ اگر کوئی شخص براہین احمدیہ کو ہاتھ میں پکڑے اور میری پہلی حالت غربت اور تنہائی کو جو براہین احمدیہ کے زمانہ میں تھی قادیان میں آ کر تمام ہندو مسلمانوں سے دریافت کرے یا گورنمنٹ انگریزی کے کاغذات میں دیکھے کہ کب سے گورنمنٹ نے میرے سلسلہ کو ایک جماعت عظیم قرار دیا ہے تو بلاشبہ وہ یقینی اور قطعی طور پر سمجھ لے گا کہ اس قدر خدا کی طرف سے حسبِ منشاء پیشگوئی کے نصرت ہونا اور ستر۷۰ ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کا بیعت میں داخل ہونا باوجود تمام مولویوں کے شور اور وہ معزز احباب جو بچشم خود دیکھ رہے ہیں کہ کیونکر اس پرانے زمانہ کی پیشگوئی بڑے زورو شور سے ان دنوں میں پوری ہو رہی ہے ان احباب کے بطور گواہان رویت ذیل میں چند نام لکھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی