پر ؔ چڑھ جانا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ خدا سے پورے طور پر ڈرنا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنا اور اپنے عمل کو ریاکاری کی ملونی سے پاک کر دینا بجز یقین کے کبھی ممکن نہیں۔ ایسا ہی دنیا کی دولت اور حشمت اور اس کی کیمیا پر *** بھیجنا اور بادشاہوں کے قرب سے بے پرواہ ہو جانا اور صرف خدا کو اپنا ایک خزانہ سمجھنا بجز یقین کے ہرگز ممکن نہیں۔ اب بتلاؤ اے مسلمان کہلانے والو کہ ظلماتِ شک سے نور یقین کی طرف تم کیونکر پہنچ سکتے ہو۔ یقین کا ذریعہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو ۱؂ کا مصداق ہے۔ سو چونکہ عہد نبوت پر تیرہ سو برس گذر گئے اور تم نے وہ زمانہ نہیں پایا جب کہ صدہا نشانوں اور چمکتے ہوئے نوروں کے ساتھ قرآن اترتا تھا اور وہ زمانہ پایا جس میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے دین پر ہزارہا اعتراض عیسائی اور دہریہ اور آریہ وغیرہ کر رہے ہیں اور تمہارے پاس بجز لکھے ہوئے چند ورقوں کے جن کی اعجازی طاقت سے تمہیں خبر نہیں اور کوئی ثبوت نہیں اور جو معجزات پیش کرتے ہو وہ محض قصّوں کے رنگ میں ہیں تو اب بتلاؤ کہ تم کس راہ سے اپنے تئیں یقین کے بلند مینار تک پہنچا سکتے ہو اور کس طریق سے دشمن کو بتلا سکتے ہوکہ تمہارے پاس خدا پر یقین لانے کے لئے اور گناہ سے بچنے کے لئے ایک ایسی چیز ہے جو دشمن کے پاس نہیں تا وہ انصاف کر کے تمہارے مذہب کا طالب ہو جائے اس حرکت سے ایک عقلمند کو کیا فائدہ کہ ایک گوبر کو چھوڑ دے اور دوسرے گوبر کو کھا لے۔ سچائی کو ہر یک سعید دل لینے کو طیار ہے بشرطیکہ سچائی اپنے نور کو ثابت کر کے دکھلا دے جس اسلام کو آج یہ مخالف مولوی اور ان کا گروہ غیر مذہب کے لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ صرف پوست ہے نہ مغز اور محض افسانہ ہے نہ حقیقت۔ پھر کوئی کیونکر اس کو قبول کرے اور جس بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک شخص مذہب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اگر وہی بیماری اس دوسرے مذہب میں بھی ہے تو اس تبدیلی سے بھی کیا فائدہ۔ یوں تو برہمو بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایک خدا کے قائل ہیں مگر خدا کا قائل وہی ہے جس کی یقین کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور وہی گناہ سے بچ سکتا ہے۔