دکھلاناؔ انسانی طاقت سے بڑھ کر ہے۔ ایک شخص ایک محبوب کو دیکھتا ہے اور اس کی ملاحت حُسن سے لذت اٹھاتا ہے مگر وہ بیان نہیں کر سکتا کہ وہ لذت کیا چیز ہے اسی طرح وہ خدا جو تمام ہستیوں کا علّت العلل ہے۔جیسا کہ اس کا دیدار اعلیٰ درجہ کی لذت کا سرچشمہ ہے ایسا ہی اس کی گفتار بھی لذات کا سر چشمہ ہے۔ اگر ایک کلام انسان سنے یعنی ایک آواز اس کے دل پر پہنچے اور اس کی زبان پر جاری ہو اور اس کو شبہ باقی رہ جاوے کہ شائد یہ شیطانی آواز ہے یا حدیث النفس ہے تو در حقیقت وہ شیطانی آواز ہو گی یا حدیث النفس ہو گی کیونکہ خدا کا کلام جس قوت اور برکت اور روشنی اور تاثیر اور لذت اور خدائی طاقت اور چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ دل پر نازل ہوتا ہے خود یقین دلا دیتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور ہرگز مردہ آوازوں سے مشابہت نہیں رکھتا بلکہ اس کے اندر ایک جان ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک طاقت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک کشش ہوتی ہے اور اس کے اندر یقین بخشنے کی ایک خاصیت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک لذت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک روشنی ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک خارق عادت تجلی ہوتی ہے اوراس کے ساتھ ذرّہ ذرّہ وجود پر تصرف کرنے والے ملایک ہوتے ہیں اور علاوہ اس کے اس کے ساتھ خدائی صفات کے اور بہت سے خوارق ہوتے ہیں اس لئے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ ایسی وحی کے مورد کے دل میں شبہ پیدا ہو سکے بلکہ وہ شبہ کو کفر سمجھتا ہے اور اگر اس کو کوئی اور معجزہ نہ دیا جاوے تو وہ اس وحی کو جو ان صفات پر مشتمل ہے بجائے خود ایک معجزہ قرار دیتا ہے۔ ایسی وحی جس شخص پر نازل ہوتی ہے اس شخص کو خدا کی راہ میں اور خدا کی محبت میں ایسے عاشق زار کی طرح بنا دیتی ہے جو اپنے تئیں صدق و ثبات کے کمال کی وجہ سے دیوانہ کی طرح بنا دیتا ہے اس کا یقین اس کے دل کو شہنشاہ کر دیتا ہے وہ میدان کا بہادر اور استغناء کے تخت کا مالک بن جاتا ہے۔ یہی میرا حال ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔ قبل اس کے جو میں معجزات دیکھوں اور آسمانی تائیدوں کا مشاہدہ کروں میں اس کی کلام سے ہی اس کی طرف ایساکھینچا گیا کہ کچھ اٹکل نہیں آتی کہ مجھے کیا ہوگیا تیز تلواریں میرے