تو ؔ اُس نے میری کتاب کے حاشیہ پر مباہلہ کی دُعا لکھی یعنی یہ کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جُھوٹا ہے اُس کے لئے خدا تعالیٰ کی **** اور اُس کا قہر مانگا اور اب تک وہ دعاءِ مباہلہ کتاب کے حاشیہ پر خاص اُس کی قلم سے درج ہے چنانچہ فی الفور دُعا قبول ہو گئی اور بعد اس کے وہ ایک سخت بیماری اور سرسام میں مبتلا ہو کر چند روز میں ہی قبر میں جا پڑا اور کتاب کے چھپنے کی نوبت نہ آئی۔ وہی مضمون اُس کا پِیر مہر علی نے اپنے نام سے چھپوایا اور جس پر حسب درخواست اُس کی جو مباہلہ کے رنگ میں تھی خدا کا قہر گرا یعنی اپنی عزیز
کرم الدین صاحب کو لکھا ہے۔ غرض گولڑی نے محمد حسن کے والد کو بہت تاکید کی ہے ان کو کتابیں مت دکھاؤ یعنی اِس راقم خاکسار کو۔ گولڑی کارڈ میں لکھتا ہے کہ محمد حسن کی اجازت سے لکھا گیا مگر یہ اعتراف راستبازی کے تقاضا سے نہیں بلکہ اس لئے کہ یہ بھید ہم پرکھل گیا اس لئے ناچار شرمندہ ہو کرا قراری ہؤا۔ دُوسرے خط میں گولڑی کا کارڈ ہے جو اُس نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر روانہ کیا ہے ملاحظہ ہو۔ خاکسارشہاب الدین از مقام بِھیْں
مولوی کرم الدین کے خط کی نقل
مکرمنا حضرت اقدس مرزا صاحب جی مدظلّہ العالی۔ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہٗ۔ مَیں ایک عرصہ سے آپ کی کتابیں دیکھا کرتا ہوں مجھے آپ کے کلام سے تعشق ہے۔ مَیں نے کئی دفعہ عالم رؤیا میں بھی آپ کی نسبت اچھے واقعات دیکھے ہیں اکثر آپ کے مخالفین سے بھی جھگڑا کرتاہوں۔ اگرچہ مجھے ابھی تک جناب سے سلسلہ پیری مُریدی نہیں ہے کیونکہ اس بارے میں میرے خیال میں بہت احتیاط درکار ہے جب تک بالمشافہ اطمینان نہ کیا جاوے بیعت کرنا مناسب نہیں ہوتا لیکن تاہم مجھے جناب سے غائبانہ محبت ہے مَیں نے چار پانچ یوم کا عرصہ ہوا ہے کہ جناب کو خواب میں دیکھا ہے آپ نے مجھے مبارکباد فرمائی
* اسلام میں *** اللہ علی الکاذبین کہنا ایک بددُعا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ جو شخص کاذب ہے وہ خدا کی رحمت سے نومید ہو اور اُس کے قہر کے نیچے آجائے۔ اِسی لئے قرآن شریف میں ایسے مَردوںیا ایسی عورتوں کے لئے جن پر مجرم ہونے کا شبہ ہو اور اُن پر اَور کوئی گواہ نہ ہو جس کی گواہی سے سزاد ی جائے۔ ایسی قسم رکھی ہے جو مؤکّد بہ *** ہوتا اِس کا نتیجہ وہ ہو جو گواہ کے بیان کا نتیجہ ہوتا ہے یعنی سزا اور قہر الٰہی۔ منہ