اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو اس سے کیا نسبت ہے یہ اور بات ہے کہ سُنّی یا شیعہ مجھ کو گالیاں دیں یا میرا نام کذّاب دجّال بے ایمان رکھیں لیکن جس شخص کو خدا تعالیٰ بصیرت عطا کرے گا وہ مجھے پہچان لے گا کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اﷲ رکھا ہے اور اس کو سلام کہا ہے۔ اورؔ اپنا دُوسرا بازو اس کو قرار دیا ہے اور خاتم الخلفاء ٹھہرایا ہے وہ مجھے اسی طرح افضل سمجھے گا جس طرح خدا اور رسول نے مجھے فضیلت دی ہے کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن اور احادیث اور تمام نبیوں کی
دیکھیںؔ کہ کس قدر اقوال نقل کئے گئے ہیں اور ہر ایک کو علامۂ مجلسی نے لکھا ہے کہ بسند صحیح از امام محمد باقر منقول است و در حدیث معتبر دیگر منقول است و بسند صحیح از حضرت صادق منقول است وغیرہ وغیرہ کرکے لکھا ہے۔ پھر مولانا صاحب جب آپ کے گھر میں ہی روایات متعددہ مختلفہ ہیں تو مہربان من آپ نے کَلِمَاتٍ کی تفسیر میں جزم کس طرح کر لیا کہ اُن سے مراد اسماء پنجتن پاک ہیں اور پھر اُس پر متفق علیہ کا جملہ جڑ دیا۔ اس میں تو علماء اور مفسرین امامیہ ہی متفق نہیں اَوروں کا تو کیا ذکر۔ اس کے آگے آپ ارقام فرماتے ہیں کہ تہتّر مذہب کی متفق علیہ حدیثوں سے یہی ثابت ہے کہ حضرت نوح ؑ نے طوفان کے وقت اور حضرت ابراہیم ؑ نے الیٰ آخرہ۔ ذرا مہربانی فرما کر تہتّر مذہب کے اتفاق کا جو آنجناب نے دعویٰ کیا ہے ہر ایک مذہب والے کی ایک ایک حدیث اس مضمون کے متعلق درج فرماویں اور ہم آپ کی ان احادیث پیش کردہ میں مطابق اصول احادیث جرح بھی نہ کریں گے خواہ وہ ضعیف ہی کیوں نہ ہوں۔ صرف مذہب والے کا نام اور حدیث کے وہ عربی الفاظ جو بقید روات درج کئے گئے ہوں معہ حوالہ کتب جس میں وہ حدیث نقل کی گئی ہے مرحمت فرماویں۔ پھر مَیں اصل مطلب کی طرف عود کرکے آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ آپ رسالہ کے سر پر یہ عبارت درج فرماتے ہیں جس کے الفاظ یہ ہیں ( اس کے ردّ میں اور امام حسین کی فضیلت بغیر محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کُل انبیاء پر)۔ (۱) ان الفاظ کے ثبوت میں آپ نے کونسا قول خدا کا ذکر کیا ہے جہاں اﷲ جلّشانہٗ نے فرمایا ہو کہ امام حسین ؑ افضل ہیں تمام انبیاء پر اجمالی طور یا تفصیلی طور جُدا جُدا انبیاء علیہم السلام کے نام ذکر کرکے۔ (۲) کسی حدیث صحیح میں رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ حسین افضل ہیں تمام انبیاء سے۔ (۳) امام حسینؑ نے خود فرمایا ہو کہ مَیں افضل ہوں تمام انبیاء سے سوائے آنحضرت کے (۴) باقی ائمہ اہل بیت میں سے کسی امام نے فرمایا ہو کہ امام حسینؑ افضل ہیں تمام انبیاء سابقہ سے سوائے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے۔ اب ہم آپ کا منطقی ثبوت دیکھتے ہیں کہ کہاں آپ نے منطق کا صغریٰ اور کبریٰ قائم کرکے اس کا ثبوت دیا ہے۔ ہاں (الاشارۃ تکفی للعاقل) چونکہ تمام انبیاء نے حضرت حسین علیہ السلام اور اُن کے آباء کرام کو وسیلہ اپنی دُعاؤں