نمونہ پیش کرے اور اس نشان میں ظاہر کیا گیا ہے کہ جیسا کہ کسوف خسوف کچھ تھوڑی مدّت کے بعد رفع اور دور ہو جاتا ہے اور یہ دونوں نیرّ اپنی اپنی سلطنت پر قائم ہو جاتے ہیں ۔ ایسا ہی اس جگہ بھی ہو گا۔ سُنی اور شیعہ دونوں گروہ اس کسوف خسوف کے تیرہ سو برس سے منتظر تھے مگر جب وہ ظاہر ہوا تو اُس کی تکذیب کی۔ کیا یہودیت کے کچھ اور بھی معنی ہیں۔ پھر دیکھو کہ قرآن اور حدیث دونوں بتلا رہے ہیں کہ مسیح کے زمانہ میں اونٹ بیکار ہوجائیں گے یعنی اُن کے قائم مقام کوئی اور سواری پیدا ہو جائے گی یہ حدیث مُسلم میں موجود ہے اِس کے الفاظ یہ ہیں ویترکن القلاص فلایسعٰی علیھا اور قرآن کے الفاظ یہ ہیں ۱؂ شیعوں کی کتابوں میں بھی یہ حدیث موجود ہے مگر کیا کسی نے اس نشان کی کچھ بھی پروا کی۔ ابھی عنقریب اس پیشگوئی کا دلکش نظارہ مکّہ اور مدینہ کے درمیان نمایاں ہونے والا ہے جبکہ اونٹوں کی ایک لمبی قطار کی جگہ ریل کی گاڑیاں نظر آئیں گی اور تیرہ سو برس کی سواریوں میں انقلاب ہو کر ایک نئی سواری پیدا ہو جائے گی۔ اس وقت ان مسافروں کے سر پر جب یہ آیت 3اور یہ حدیث ویترکن القلاص فلا یسعٰی علیھا پڑھی جائے گی تو کیسے انشراح صدر سے ان کو ماننا پڑے گا کہ یہ درحقیقت آج کے دن کے لئے ایک نشان تھا اور ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی جو ہمارے نبی کریمؐ کے مبارک لبوں سے نکلی اور آج پُوری ہوئی مگر افسوس اے تکذیب کرنے والو تم کب باز آؤ گے وہ کب دن آئے گا جو تمہاری بھی آنکھیں کھلیں گی۔ خدا کے نشان یُوں برسے جیسے برسات میں مینہ برستا ہے مگر تمہاری خشکی دور نہ ہوئی۔ دیکھتے دیکھتے صدی کا پانچواں حصہ بھی گذر گیا مگر تمہارا کوئیؔ مجدّد ظاہر نہ ہوا۔ خدا نے نشانوں کے دکھلانے میں کمی نہ رکھی۔ کسوف خسوف رمضان میں بھی ہوا اور بموجب حدیث کے ستارہ ذوالسنین بھی مُدّت ہُوئی