حالاؔ نکہ تمام گاؤں جانتا ہے کہ وہ دیوانہ کُتّے کے کاٹنے سے مرا تھا اور جیسا کہ معمول ہے سرکاری طور پر اس کی موت کا نقشہ طیار کیا گیا اور کُتّے کے کاٹنے کی تاریخ وغیرہ اُس میں لکھی گئی پھر یہ کیسی پیسہ اخبار کی ایمانداری ہے کہ ایسے جھوٹوں کو جن سے گورنمنٹ پر بھی حملہ ہے اپنے اخبار میں شائع کیا گویا گورنمنٹ نے اپنے ملازموں کے ذریعہ سے عمدًا طاعون کے کیس کو چھپایا اور اپنے نقشوں میں دیوانہ کُتّے سے مرنا درج کیا۔ مگر پیسہ اخبار نے گورنمنٹ کا یہ جھوٹ پکڑ لیا۔ پس جبکہ پیسہ اخبار کی یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ وہ بلادھڑک گورنمنٹ کے تحقیق کردہ امور کے برخلاف جھوٹ بولتا ہے تو کس قدر وجود اس کا خطرناک ہے۔ اڈیٹروں کا یہ فرض ہونا چاہئیے کہ وہ سچائی کو دنیا میں پھیلاویں نہ جھوٹ کو۔ اِس لئے ہم بار بار کہتے ہیں کہ ایسے گندے اور ناپاک اخبار دنیا کو بجائے فائدہ کے نقصان پہنچاتے ہیں اور جھوٹ جو ایک نہایت پلید اور ناپاک چیز ہے اس کو دنیا میں رائج کرتے ہیں۔ ابھی ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری مخالفت کے جوش میں کہاں تک یہ شخص جھوٹ سے کام لے گا اور کس قدر فرضی طور پر نامُردہ لوگوں کو طاعون سے مارے گا۔ اِسی افترا کی قسم میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نتّھو چوکیدار کی مَوت کو بھی طاعون سے لکھتا ہے حالانکہ ایک عرصہ ہواکہ وہ غریب کچھ مدّت تپ سے بیمار رہ کر بقضائے الٰہی فوت ہوا ہے چنانچہ سرکاری کتاب میں اس کی موت اور مولاچوکیدار کی موت کا باعث بخار ہی لکھا ہے۔ پھر کیا ممکن ہے کہ سرکارمیں جھوٹی خبر دی گئی۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ جیسا کہ ہمیشہ گرمی کی شدّت کی وجہ سے بخار ہوتا ہے قادیان میں بھی بخار رہا ہے اور اندازہ کیا گیا ہے کہ ایک سو سے زیادہ لوگوں کو بخار ہوا ہوگا اور خود ایک دو دن مجھے اور ہمارے بچوں کو بھی بخار ہوا۔ مدرسہ کے بعض لوگوں کو بھی بخار ہوا اور عام طور پر گاؤں میں بہتوں کو بخار ہوا۔ اسی کثرت بخار کے سلسلہ میں چند آدمی بخار سے فوت بھی ہو گئے جن میں سے بعض چند ماہ کے بیمار تھے اور بعض تپ محرقہ سے فوت ہوئے اور جہاں تک ہمیں علم ہے ایسے آدمی دو یا تین سے زیادہ نہیں جو قریباً سو آدمی میں سے جومبتلائے بخار تھے جانبر نہ ہو سکے۔ اب کیا اس کو طاعون کہنا چاہئیے؟ جائے شرم ہے کیا گرمی کے موسم میں اس سے پہلے کبھی بخار نہیں ہوئے بلکہ بعض برسوں میں جبکہ طاعون کا دنیا میں نام و نشان نہ تھا اسی موسم میں اسی گاؤں قادیان میں بعض لوگ تپ محرقہ سے تیس تیس کے قریب مر گئے تھے اب تو خدا کا