اورؔ ناپاک اور دِلآزار جھوٹوں کے شائع کرنے کی وجہ سے پیسہ اخبار سے باز پُرس کرے اور ایسی جھوٹی موتوں کا اُس سے ثبوت طلب کرے اور قانون کی حد تک اُس کو پوری سزا کا مزا چکھاوے۔
غور کا مقام ہے کہ ایک تو واقعی طور پر ملک میں طاعون نے تشویش پھیلا رکھی ہے اور دُوسرے اس جھوٹی طاعون کے شائع کرنے کا پیسہ اخبار نے ٹھیکہ لے لیا ہے ۔ پھر اگر ایسی صورت میں یہ گورنمنٹ جو رعایا کی ہمدرد ہے ایسے کھلے کھلے جھوٹ کے وقت میں جس کا نہایت دلیری سے ارتکاب کیا گیا ہے ایسے مُنہ پھٹے انسان سے مواخذہ نہ کرے تو نہ معلوم دروغگوئی میں کس حد تک اس شخص کا حال پہنچ جائے گا اور کن کن دِلوں کو بے وجہ دُکھائے گا ۔ ہنوز ابتدائی حالت ہے تھوڑی سزا سے بھی متنبہ ہو سکتا ہے پس کم سے کم دروغگوئی کی یہ سزا ہے کہ بلاتوقف اس کی یہ اخبار بند کر دی جائے یا علاوہ اس کے اور کوئی مناسب سزا دی جاوے اور اگر گورنمنٹ کو اس ہماری تحریر میں شبہ ہو تو اپنے کسی افسر کو قادیان میں بھیج کر تحقیق اور تفتیش کر لیں کہ کیا یہ تحریر واقعی ہے یا غیر واقعی۔ بدقسمت اڈیٹر نے اس گندے جُھوٹ سے خود اپنے تئیں پبلک کے سامنے اور نیز گورنمنٹ کے سامنے ایک دروغگو اور مُفتری ثابت کر دیا ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ اس جھوٹ سے اس کو کچھ فائدہ نہیں ہوا کیونکہ اصل مطلب اس دروغگوئی سے اُس کا یہ تھا کہ تا اِس بات کو ثابت کرے کہ گویا ہم نے اپنے رسالہ دافع البلاء میں یہ لکھا ہے کہ قادیان میں طاعون ہرگز نہیں آئے گی اور طاعون آگئی۔ کاش اگر وہ رسالہ دافع البلاء کو ذرہ غور سے پڑھ لیتا اور اس کے صفحہ پانچ کے حاشیہ کو دیکھ لیتا جس کو ہم نے اس رسالہ میں نقل کر دیا ہے تو اس دروغگوئی کی *** سے بچ جاتا۔ اس کا یہ عذر صحیح نہیں ہو گا کہ بدبخت شریروں اور جھوٹوں نے قادیان سے مجھے خبر دی اس لئے مَیں نے جھوٹ کو شائع کر دیا کیونکہ شائع کرنے کا ذمّہ دار وہ ہے نہ کوئی اور شخص بلکہ اس نے تو ساتھ ہی دوسرے چند اخباروں کو بھی آلودہ کیا۔ اس کو خوب معلوم تھا کہ قادیان کے آریہ اُس وقت سے جبکہ لیکھرام کے حق میں پیشگوئی پوری ہوئی دِل سے اس سلسلہ کے ساتھ عناد رکھتے ہیں اور بعض دُوسرے مذہب بھی ان کے ہمرنگ ہیں پھر وہ کیونکر ایسے امین ٹھہر سکتے ہیں کہ اُن کے بیان کی تفتیش ضروری نہیں اور باایں ہمہ پیسہ اخبار اِس بات کو بھی مخفی نہیں رکھ سکتا کہ وہ آدم کے سانپ کی طرح