حاشیہ
نمبر۱
چراغ دین کی نسبت میں یہ مضمون لکھ رہا تھا کہ تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھ کو خدائے عزّوجلّ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ نزل بہٖ جبیز یعنی اس پر جبیز نازل ہوا اور اسی کو اس نے الہام یا رؤیا سمجھ لیا۔ جبیز دراصل خشک اور بے مزہ روٹی کو کہتے ہیں جس میں کوئی حلاوت نہ ہو اور مشکل سے حلق میں سے اتر سکے اور مرد بخیل اور لئیم کو بھی کہتے ہیں جس کی طبیعت میں کمینگی اور فرومایگی اور بخل کا حصہ زیادہ ہو۔ اور اس جگہ لفظ جبیز سے مراد وہ حدیث النفس اور اضغاث الاحلام ہیں جن کے ساتھ آسمانی روشنی نہیں اوربخل کے آثار موجود ہیں اور ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا اور آرزو کے وقت القاء شیطان ہوتا ہے اور یا خشکی اور سوداوی مواد کی وجہ سے کبھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القاء ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی اس لئے الٰہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جبیز ہے اور علاج توبہ اور استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلّی ہے۔ ورنہ جبیز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔ خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔ منہ
حاشیہ
نمبر۲
رات کو عین خسوف قمر کے وقت میں چراغ دین کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا انّی اذیب من یریب۔ میں فنا کر دوں گا۔ میں غارت کروں گا۔ میں غضب نازل کروں گا اگر اس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعوے سے توبہ نہ کی۔ اور خدا کے انصار