سمجھتے ہیں۔ پس ہم قرآن کو چھوڑ کر اور کس کتاب کو تلاش کریں اور کیونکر اس کو ناکامل سمجھ لیں۔ خدا نے ہمیں تو یہ بتلایا ہے کہ عیسائی مذہب بالکل مر گیا ہے اور انجیل ایک مُردہ اور ناتمام کلام ہے۔ پھر زندہ کو مُردہ سے کیا جوڑ۔ عیسائی مذہب سے ہماری کوئی صلح نہیں وہ سب کا سب ردّی اورباطل ہے اور آج آسمان کے نیچے بجز فرقان حمید کے اور کوئی کتاب نہیں۔ آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے میری نسبت یہ الہام درج ہے جو اس کے صفحہ ۲۴۱ میں پاؤ گے اور وہ یہ ہے:۔ ولن ترضی عنک الیہود ولاالنصاریٰ وخرقوا لہ بنین و بنات بغیرعلم قل ھو اللّٰہ احد اللّٰہ الصمدلم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد۔ و یمکرون و یمکراللّٰہ واللّٰہ خیرالماکرین۔ الفتنۃ ھٰھنا فاصبر کما صبر اولوالعزم و قل رب ادخلنی مدخل صدق۔ یعنی تیرا اور یہود اور نصاریٰ کا کبھی مصالحہ نہیں ہو گا اوروہ کبھی تجھ سے راضی نہیں ہوں گے۔ (نصاریٰ سے مراد پادری اور انجیلوں کے حامی ہیں) اور پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے ناحق اپنے دل سے خدا کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھی ہیں اور نہیں جانتے کہ ابن مریم ایک عاجز انسان تھا۔ اگر خدا چاہے تو عیسیٰ ابن مریم کی مانند کوئی اورآدمی پیدا کر دے یا اس سے بھی بہتر جیسا کہ اس نے کیا۔ مگر وہ خدا تو واحد لاشریک ہے جو موت اور تولد سے پاک ہے اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عیسائیوں نے شور مچا رکھا تھا کہ مسیح بھی اپنے قرب اور وجاہت کے رو سے واحد لاشریک ہے۔ اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اس کا ثانی پیدا کروں گا جو اس سے بھی بہتر ہے۔ جو غلام احمد ہے یعنی احمد کا غلام۔
زندگی بخش جام احمد ہے
کیا پیارا یہ نام احمد ہے
لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا
سب سے بڑھ کر مقام احمدہے
باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا
میرا بستاں کلام احمد ہے
اِبن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اُس سے بہتر غلامِ احمد ہے
یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کے رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے