اطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ اور میرا یہ قول کہ
’’من نیستم رسول و نیا وردہ اَم کتاب‘‘
اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ ہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بِلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمّٰی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔ اور اس طور سے خاتم النبییّن کی مُہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلّی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مُہر نہیں ٹوٹتی* یہ بات ظاہر ہے کہ جیساکہ میں اپنی نسبت کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے ایسا ہی
یہ کیسی عمدہ بات ہے کہ اس طریق سے نہ تو خاتم النبییّن کی پیشگوئی کی مُہر ٹوٹی اور نہ اُمت کے کل افراد مفہوم نبوت سے جو آیت کے مطابق ہے محروم رہے مگر حضرت عیسیٰ کو دوبارہ اُتارنے سے جن کی نبوت اسلام سے چھ سَو برس پہلے قرار پا چکی ہے اسلام کا کچھ باقی نہیں رہتا اور آیت خاتم النبییّن کی صریح تکذیب لازم آتی ہے۔ اس کے مقابل پر ہم صرف مخالفوں کی گالیاں سنیں گے۔ سو گالیاں دیں۔ َ۔ منہ