رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے وَمَنِ ادَّعٰی فَقَدْکَفَرَ۔ اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبییّن کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغایرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہوگا جو خاتم النبییّن پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اُسی خاتم النبییّن میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مُہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلّی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلّی طورپر محمداور احمد رکھا گیا پھر بھی سیدنا محمدؐ خاتم النبییّن ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اُسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے مگر عیسیٰ بغیر مُہر توڑنے کے آ نہیں سکتا کیونکہ اس کی نبوت ایک الگ نبوت ہے اور اگر بروزی معنوں کے رو سے بھی کوئی شخص نبی اور رسول نہیں ہو سکتا تو پھر اس کے کیا معنی ہیں کہ333 ۱؂* سو یاد رکھنا چاہیے کہ ان معنوں کے رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں ہے۔ اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔ اگر خداتعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہیے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے اور نبی * یہ ضرور یاد رکھو کہ اس اُمت کیلئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے ۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔ لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علومِ غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت 33 ۲؂سے ظاہر ہے پس مصفّٰی غیب پانے کیلئے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت 3گواہی دیتی ہے کہ اس مصفّٰی غیب سے یہ اُمت محروم نہیں اور مصفّٰی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہِ راست بند ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کیلئے محض بروز اور ظلّیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔ فتدبر۔ منہ