ہیں کہ یہ تو جھوٹا افتراہے جو اس شخص نے کیا ۔ ہم نے اپنے باپ دادوں سے ایسا نہیں سُنا۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ کسی کو کوئی مرتبہ دینا خدا پر مشکل نہیں۔ ہم نے انسانوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پس اسی طرح اس شخص کو یہ مرتبہ عطا فرمایا تاکہ مومنوں کیلئے نشان ہو۔ مگر خدا کے نشانوں سے ان لوگوں نے انکار کیا۔ دل تو مان گئے مگر یہ انکار تکبر اور ظلم کی وجہ سے تھا۔ ان کوکہہ دے کہ میرے پاس خاص خدا کی طرف سے گواہی ہے پس کیا تم مانتے نہیں۔ پھر ان کو کہہ دے کہ میرے پاس خاص خدا کی طرف سے گواہی ہے۔ پس کیا تم قبول نہیں کرتے۔ اور جب نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو ایک معمولی امر ہے جو قدیم سے چلا آتا ہے۔ (واضح ہو کہ آخری فقرہ اس الہام کا وہ آیت ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ جب کفار نے شق القمر دیکھا تھا تو یہی عذر پیش کیا تھا کہ یہ ایک کسوف کی قسم ہے۔ ہمیشہ ہوا کرتا ہے کوئی نشان نہیں۔ اب اس پیشگوئی میں خدا تعالیٰ نے اس کسوف خسوف کی طرف اشارہ فرمایا جو اس پیشگوئی سے کئی سال بعد میں وقوع میں آیا جو کہ مہدی معہود کے لئے قرآن شریف اور حدیث دارقطنی میں بطور نشان مندرج تھا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اس کسوف خسوف کو دیکھ کر منکر لوگ یہی کہیں گے کہ یہ کچھ نشان نہیں۔ یہ ایک معمولی بات ہے۔ یاد رہے کہ قرآن شریف میں اس کسوف خسوف کی طرف آیت 3 ۱؂ میں اشارہ ہے اور حدیث میں اس کسوف خسوف کے بارے میں امام باقر کی روایت ہے۔ جس کے یہ لفظ ہیں کہ انّ لمھدینا اٰیتین۔ اور عجیب تر بات یہ کہ براہین احمدیہ میں واقعہ کسوف خسوف سے قریباً پندرہ برس پہلے اس واقعہ کی خبر دی گئی اور یہ بھی بتلایا گیا کہ اس کے ظہور کے وقت ظالم لوگ اس نشان کو قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ ہمیشہ ہوا کرتا ہے حالانکہ ایسی صورت جب سے کہ دنیا ہوئی کبھی پیش نہیں آئی کہ کوئی مہدی کا دعویٰ کرنے والا ہو اور اس کے زمانہ میں کسوف خسوف ایک ہی مہینہ میں یعنی رمضان میں ہو۔ اور یہ فقرہ جو دو مرتبہ فرمایا گیا کہ قل عندی شہادۃ منؔ اللّٰہ فھل انتم مؤمنون۔وقل عندی شھادۃ من اللّٰہ