مخالفین پر حجت پوری کی ہے*۔ اِسی طرح مَیں چاہتا ہوں کہ آیت لو تقوّل کے متعلق بھی حجت پوری ہو جائے۔ اِسی جہت سے مَیں نے اِس اشتہار کو پانسو روپیہ کے انعام کے ساتھ شائع کیا ہے اور اگر تسلی نہ ہو تو میں یہ روپیہ کسی سرؔ کاری بنک میں جمع کرا سکتاہوں ۔اگر حافظ محمد یوسف صاحب اور اُن کے دوسرے ہم مشرب جن کے نام میں نے اس اشتہار میں لکھے ہیں اپنے اس دعویٰ میں صادق ہیں یعنی اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرکے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سُنا کر پھر باوجود مفتری ہونے کے برابر تیئیس برس تک جو زمانۂ وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے زندہ رہا ہے تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے کہ مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانسو روپیہ نقددے دوں گا۔ اور اگر ایسے لوگ کئی ہوں تو ان کا اختیار ہوگا کہ وہ روپیہ باہم تقسیم کر لیں۔ اس اشتہار کے نکلنے کی تاریخ سے پندرہ روز تک اُن کو مہلت ہے کہ دنیا میں تلاش کرکے ایسی
* اس زمانہ کے بعض نادان کئی دفعہ شکست کھا کر پھر مجھ سے حدیثوں کی رو سے بحث کرنا چاہتے ہیں یا بحث کرانے کے خواہشمند ہوتے ہیں مگر افسوس کہ نہیں جانتے کہ جس حالت میں وہ اپنی چند ایسی حدیثوں کو چھوڑنا نہیں چاہتے جو محض ظنّیات کا ذخیرہ اور مجروح اور مخدوش ہیں اور نیز مخالف اُن کے اور حدیثیں بھی ہیں اور قرآن بھی ان حدیثوں کو جھوٹی ٹھہراتا ہے تو پھر میں ایسے روشن ثبوت کو کیونکر چھوڑ سکتا ہوں جس کی ایک طرف قرآن شریفؔ تائید کرتا ہے اور ایک طرف اس کی سچائی کی احادیث صحیحہ گواہ ہیں اور ایک طرف خدا کا وہ کلام گواہ ہے جو مجھ پر نازل ہوتا ہے اور ایک طرف پہلی کتابیں گواہ ہیں اور ایک طرف عقل گواہ ہے۔ اور ایک طرف وہ صدہانشان گواہ ہیں جو میرے ہاتھ سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ پس حدیثوں کی بحث طریق تصفیہ نہیں ہے۔ خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں۔ اور جو شخص حَکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پاکر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پاکر ردّ کرے۔ منہ