یاد دلا دیتا ہے اور آخر مفاسد کا موجب ٹھہرتا ہے۔ سو اگر ہماری دانشمند گورنمنٹ پانچ برس تک یہ قانون جاری کر دے کہ برٹش انڈیا کے تمام فرقوں کو جس میں پادری بھی داخل ہیں قطعاً روک دیا جائے کہ وہ دوسرے مذاہب پر ہر گز مخالفانہ حملہ نہ کریں اور محبت اور خلق سے ملاقاتیں کریں اور ہر ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں ظاہر کرے تو مجھے یقین ہے کہ یہ زہر ناک پودہ پھوٹ اور کینوں کا جو اندر ہی اندر نشوو نما پا رہا ہے جلد تر مفقود ہو جائے گا اور یہ کارروائی گورنمنٹ کی قابل تحسین ٹھہر کر سرحدی لوگوں پر بھی بے شک اثر ڈالے گی اور امن اور صلح کاری کے نتیجے ظاہر ہوں گے۔ آسمان پر بھی یہی منشاء خدا کا معلوم ہوتا ہے کہ جنگ و جدل کے طریق موقوف ہوں اور صلح کاری کے طریق اور باہمی محبت کی راہیں کھل جائیں۔ اگر کسی مذہب میں کوئی سچائی ہے تو وہ سچائی ظاہر کرنی چاہئے نہ یہ کہ دوسرے مذاہب کی عیب شماری کرتے رہیں۔ یہ تجویز جو میں پیش کرتا ہوں اس پر قدم مارنا یا اس کو منظور کرنا ہر ایک حاکم کا کام نہیں ہے بڑے پُر مغز حکام کا یہ منصب ہے کہ اس حقیقت کو سمجھیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارے عالی جاہ نواب معلی القاب وائسرائے بہادر کرزن صاحب بالقابہ اپنی وسعت اخلاق اور موقع شناسی کی قوت سے ضرور اس درخواست پر توجہ فرمائیں گے اور اپنی شاہانہ ہمت سے اس پیش کردہ تجویز کو جاری فرمائیں گے اور اگر یہ نہیں تو اپنے عہد دولت مہد میں اسی قدر خدا کے لئے کارروائی کرلیں کہ خود بدولت امتحان کے ذریعہ سے آزمالیں کہ اس ملک کے مذاہب موجودہ میں سے الٰہی طاقت کس مذہب میں ہے یعنی تمام مسلمانوں آریوں سکھوں سناتن دھرموں* عیسائیوں برہموؤں یہودیوں وغیرہ فرقوں کے نامی علماء کے نام یہ احکام جاری ہوں کہ اگر اُن کے مذہب میں کوئی الٰہی طاقت ہے خواہ وہ پیشگوئی کی قسم سے ہو یا اور قسم سے وہ دکھائیں۔ اور پھر جس مذہب میں وہ زبردست طاقت جو طاقت بالا ہے ثابت ہو جائے ایسے مذہب کو قابل تعظیم اور سچا سمجھا جائے۔ اور چونکہ مجھے آسمان سے اِس
* سہوًا ایسا لکھا گیا ہے درست ’’سناتن دھرمیوں ‘‘ہے۔(ناشر)