قبولیت کا علم دیئے جانا یااور غیبی واقعات معلوم ہونا جو انسان کی حد علم سے باہر ہیں تو اس مقابلہ میں وہ مغلوب رہے گا گووہ مشرقی ہویا مغربی یہ وہ دو نشان ہیں جو مجھ کو دیئے گئے ہیں تا ان کے ذریعہ سے ؔ اس سچے خدا کی طرف لوگوں کو کھینچوں جو درحقیقت ہماری رُوحوں اور جسموں کا خدا ہے جس کی طرف ایک دن ہر ایک کا سفر ہے۔ یہ سچ ہے کہ وہ مذہب کچھ چیز نہیں جس میں الٰہی طاقت نہیں۔ تمام نبیوں نے سچے مذہب کی یہی نشانی ٹھہرائی ہے کہ اُس میں الٰہی طاقت ہو۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ دونوں نام جو خدا تعالیٰ نے میرے لئے مقرر فرمائے یہ صرف چند روز سے نہیں ہیں بلکہ میری کتاب براہین احمدیہ میں جس کو شائع کئے قریباً بیس برس گذرگئے یہ دونوں نام خدا تعالیٰ کے الہام میں میری نسبت ذکر فرمائے گئے ہیں یعنی عیسیٰ مسیح اور محمد مہدی تا میں ان دونوں گروہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو وہ پیغام پہنچا دوں جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ کاش اگر دلوں میں طلب ہوتی اور آخرت کے دن کا خوف ہوتا تو ہر ایک سچائی کے طالب کو یہ موقع دیا گیا تھا کہ وہ مجھ سے تسلی پاتا۔ سچا مذہب وہ مذہب ہے جو الٰہی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور فوق العادت کاموں سے خدا تعالیٰ کا چہرہ دکھاتا ہے۔ سو میں اس بات کا گواہ رویت ہوں کہ ایسا مذہب توحید کا مذہب ہے جو اسلام ہے جس میں مخلوق کو خالق کی جگہ نہیں دی گئی۔ اور عیسائی مذہب بھی خدا کی طرف سے تھا مگر افسوس کہ اب وہ اس تعلیم پر قائم نہیں اور اس زمانہ کے مسلمانوں پر بھی افسوس ہے کہ وہ شریعت کے اس دوسرے حصہ سے محروم ہو گئے ہیں جو ہمدردئ نوع انسان اور محبت اور خدمت پر موقوف ہے اور وہ توحید کا دعویٰ کرکے پھر ایسے وحشیانہ اخلاق میں مبتلا ہیں جو قابل شرم ہیں۔ میں نے بارہا کوشش کی جو ان کو ان عادات سے چھڑاؤں لیکن افسوس کہ بعض ایسی تحریکیں ان کو پیش آجاتی ہیں کہ جن سے وحشیانہ جذبات ان کے زندہ ہو جاتے ہیں۔ اور وہ بعض کم سمجھ پادریوں کی تحریرات ہیں جو زہریلا اثر رکھتی ہیں۔ مثلاً پادری عماد الدین کی کتابیں اور پادری ٹھاکر داس کی کتابیں اور صفدر علی کیؔ کتابیں اور امہات المومنین