ضمیمہؔ رسالہ جہاد
عیسیٰ مسیح اور محمد مہدی کے دعویٰ کی اصل حقیقت اور جناب
نواب وایسرائے صاحب بالقابہ کی خدمت میں ایک
درخواست
اگرچہ میں نے اپنی بہت سی کتابوں میں اس بات کی تشریح کر دی ہے کہ میری طرف سے یہ دعویٰ کہ میں عیسیٰ مسیح ہوں اور نیز محمد مہدی ہوں اس خیال پر مبنی نہیں ہیں کہ میں درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں اور نیز درحقیقت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں مگر پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے غور سے میری کتابیں نہیں دیکھیں وہ اس شبہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ گویا میں نے تناسخ کے طور پر اس دعویٰ کو پیش کیا ہے اور گویا میں اس بات کا مدعی ہوں کہ سَچ مُچ ان دو بزرگ نبیوں کی روحیں میرے اندر حلول کر گئی ہیں۔ لیکن واقعی امر ایسا نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ آخری زمانہ کی نسبت پہلے نبیوں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ ایک ایسازمانہ ہوگا کہ جو دو قسم کے ظلم سے بھر جائے گا۔ ایک ظلم مخلوق کے حقوق کی نسبت ہوگا اور دوسرا ظلم خالق کے حقوق کی نسبت۔ مخلوق کے حقوق کی نسبت یہ ظلم ہوگا کہ جہاد کا نام رکھ کر نوع انسان کی خون ریزیاں ہوں گی۔ یہاں تک کہ جو شخص ایک بے گناہ کو قتل کرے گا وہ خیال کرے گا کہ گویا ؔ وہ ایسی خو ن ریزی سے ایک ثواب عظیم کو حاصل کرتا ہے اور اس کے سوا اور بھی کئی قسم کی ایذائیں محض دینی غیرت کے بہانہ پر نوع انسان کو پہنچائی جائیں گی چنانچہ وہ زمانہ یہی ہے کیونکہ ایمان اور انصاف