محدّث کی کتاب سے اس حدیث کاموضوع ہونا ثابت کر سکو تو ہم فی الفور ایک سو روپیہ بطور انعام تمہاری نذر کریں گے جس جگہ چاہو امانتًا پہلے جمع کرالو ورنہ خدا سے ڈرو جو میرے بغض کے لئے صحیح حدیثوں کو جو علمائے ربّانی نے لکھی ہیں موضوع ٹھہراتے ہو حالانکہ امام بخاری نے تو بعض روافض اور خوارج سے بھی روایت لی ہے ان تمام حدیثوں کو کیوں صحیح جانتے ہو؟ غرض ناظرین کے لئے یہ فیصلہ کُھلا کُھلا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حدیث کو موضوع قرار دیتا ہے تو وہ اکابر محدثین کی شہادت سے ثبوت پیش کرے۔ ہم حتمی وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس کو ایک سو روپیہ بطور انعام دے دیں گے۔ خواہ یہ روپیہ بھی مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کے پاس اپنی تسلی کے لئے بشرائط مذکورہ بالا جمع کرا لو اور اگر یہ حدیث موضوع نہیں اور افترا کی تہمت سے اس کا دامن پاک ہے تو تقویٰ اور ایمانداری کا یہی تقاضا ہونا چاہئے کہ اس کو قبول کر لو۔ محدثین کا ہر گز یہ قاعدہ نہیں ہے کہ کسی راوی کی نسبت ادنیٰ جرح سے ہی فی الفور حدیث کو موضوع قرار دیا جائے۔ بھلا جن حدیثوں کی رُو سے مہدی خونی کو مانا جاتا ہے وہ کس مرتبہ کی ہیں؟ آیا اُن کے تمام راوی جرح سے خالی ہیں؟ بلکہ جیسا کہ ابن خلدون نے لکھا ہے تمام اہل حدیث جانتے ہیں کہ مہدی کی حدیثوں میں سے ایک حدیث بھی جرح سے خالی نہیں۔ پھرؔ ان مہدی کی حدیثوں کو ایسا قبول کر لینا کہ گویا اُن کا انکار کفر ہے حالانکہ وہ سب کی سب جرح سے بھری ہوئی ہیں۔ اور ایک ایسی حدیث سے انکار کرنا جو اور طریقوں سے بھی ثابت ہے اور جو خود قرآن آیت 3 ۱ میں اس کے مضمون کا مصدّق ہے کیا یہی ایمانداری ہے؟ حدیثوں کے جمع کرنے والے ہرایک جرح سے حدیث کو نہیں پھینک دیتے تھے ورنہ ان کے لئے مشکل ہو جاتا کہ اس التزام سے تمام اخبار و آثار کو اکٹھا کر سکتے۔ یہ باتیں سب کو معلوم ہیں مگر اب بخل جوش مار رہا ہے۔ ماسوا اس کے جبکہ مضمون اس حدیث کا جو غیب کی خبر پر مشتمل ہے پورا ہو گیا تو بموجب آیت کریمہ 333