یعنی اگر ایمان ثریا پر اٹھایا جاتا اور زمین سراسر بے ایمانی سے بھر جاتی تب بھی یہ آدمی جو فارسی الاصل ہے اس کو آسمان پر سے لے آتا۔ اور بنی فاطمہ ہونے میں یہ الہام ہے۔ الحمدللّٰہ الذی جعل لکم الصھر* والنسب۔ اشکرنعمتی رئیت خدیجتی۔ یعنی تمام حمد اور تعریف اُس خدا کے لئے جس نے تمہیں فخرد امادی سادات اور فخر علو نسب جو دونوں مماثل و مشابہ ہیں عطا فرمایا یعنی تمہیں سادات کا داماد ہونے کی فضیلت عطا کی اور نیز بنی فاطمہ اُ ّ مہات میں سے پیدا کرکے تمہارے نسب کو عزت بخشی اور میری نعمت کا شکر کر کہ تونے میری خدیجہ کوخ پایا یعنی بنی اسحاق کی وجہ سے ایک تو آبائی عزت تھی اور دوسری بنی فاطمہ ہونے کی عزت اس کے ساتھ ملحق ہوئی اور سادات کی دامادی کی طرف اس عاجز کی بیوی کی طرف اشارہ ہے جو سیّدہ * الہام الحمدللّٰہ الذی جعل لکم الصھر والنسب سے ایک لطیف استدلال میرے بنی فاطمہ ہونے پر پیدا ہوتا ہے کیونکہ صہر اور نسب اس الہام میں ایک ہی جعل کے نیچے رکھے گئے ہیں اور اِن دونوں کو قریباً ایک ہی درجہ کا امر قابلِ حمد ٹھہرایا گیا ہے۔ اور یہ صریح دلیل اس بات پر ہے کہ جس طرح صہر یعنی دامادی کو بنی فاطمہ سے تعلق ہے اسی طرح نسب میں بھی فاطمیت کی آمیزش والدات کی طرف سے ہے اور صہر کو نسب پر مقدم رکھنا اسی فرق کے دکھلانے کیلئے ہے کہ صہر میں خالص فاطمیت ہے اور نسب میں اس کی آمیزش۔ منہ یہ الہام براہین میں درج ہے اس میں بطور پیشگوئی اشارۃً یہ بتلایا گیا ہے کہ وہ تمہاری شادی جو سادات میں مقدر ہے ضروری طور پر ہونے والی ہے اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کو خدیجہ کے نام سے یاد کیا۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک بڑے خاندان کی ماں ہو جائے گی۔ اس جگہ یہ عجیب لطیفہ ہے کہ خدا نے ابتدائے سلسلہ سادات میں سادات کی ماں ایک فارسی عورت مقرر کی جس کانام شہر بانو تھا اور دوسری مرتبہ ایک فارسی خاندان کی بنیاد ڈالنے کے لئے ایک سیدہ عورت مقرر کی جس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے گویا فارسیوں کے ساتھ یہ عوض معاوضہ کیا کہ پہلے ایک بیوی فارسی الاصل سید کے گھر میں آئی اور پھر آخری زمانہ میں ایک بیوی سیّدہ فارسی مرد کے ساتھ بیاہی گئی اور عجیب تریہ کہ دونوں کے نام بھی باہم ملتے ہیں۔ اور جس طرح سادات کا خاندان پھیلا نے کے لئے وعدہ الٰہی تھا اس جگہ بھی براہین احمدیہ کے الہام میں اس خاندان کے پھیلانے کا وعدہ ہے اور وہ یہ ہے:۔ ’’سبحان اللّٰہ تبارک و تعالٰی زاد مجدک ینقطع اٰبائک ویبدء منک‘‘۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ منہ