أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ. فأمعِنْ فیہ وتَفکّرْ، ولا
تکن من الغافلین.وإن زمان روحانیۃ
نبیّنا علیہ السلام قد بدأ من الألف الخامس
وکمُل إلی آخر الألف السادس، وإلیہ أشار
فی قولہِ3 ۱ وتفصیل
المقام أن نبیّناصلی اللّہ علیہ وسلم قد
جاء علی قدمِ آدم، وأن روحانیۃ آدم قد
انا اعطینٰک الکوثر پس دریں معنیٰ نگاہ و فکر بکن و
از غافلاں مباش و زمانہ روحانیت نبی ما
از الف پنجم آغاز
و تا آخر الف ششم کامل شد و بسوئے ایں اشارہ مے کند
قول خداوندی کہ 3 و تفصیل ایں
مقام آنکہ نبیء ما صلی اللّہ علیہ وسلم
بر قدم آدم آمد و روحانیت آدم
انا اعطینٰک الکوثر پس ان معنوں میں غور اور فکر کر اور
غافلوں میں سے مت ہو۔ اور ہمارے نبی کی روحانیت کا زمانہ
پانچویں ہزار سے شروع
اور چھٹے ہزار کے آخر تک کامل ہوا اور اس کی طرف
خدا تعالیٰ کا قول اشارہ کرتا ہے کہ 3 اور اس مقام کی تفصیل
یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم
آدم کے قدم پر آئے اور آدم کی روحانیت نے