حتی یرجعوا إلی ربہم ویطّلعوا علی صورہم،
وذَرْہم وما یکیدون. وقد وسَم اللّہ علی
خراطیمہم، وأظہر حقیقۃ علومہم، ثم لا
یتندّمون. وإذا دُعوا إلی الحق تعرف فی
وجوہہم المنکَر، ویمرّون علینا وہم یسبّون.
أولئک الذین طبع اللّہ علی قلوبہم، وأعمی
أبصارہم، وطمس وجوہہم، فہم لا یؤانسون۔
تا آنکہ بسوئے پروردگار خویش باز بروند و بر صورتہائے خود آگاہ بشوند
و بگذار او شاں را و بد اندیشی ہائے اوشاں را و آشکار گردیدہ است کہ خدا بربینی ہائے اوشاں
داغ گذاشتہ و حقیقت علم ایشاں را طشت ازبام فرمودہ بایں ہمہ شرمندہ
و پشیمان نمے شوند و ہر گاہ ایشاں را بسوئے حق خواندہ شود
چیں بر جبین مے شوند و دشنام بر زبان از پیش ما مے گزرند
ایشاں کسانے ہستند کہ خدا بر دل شان مہر زدہ و
چشم شاں را کور ساختہ و رو ہائے ایشاں نگوں کردہ پس ایشاں انس نمے ورزند
یہاں تک کہ اپنے پروردگار کے پاس جائیں اور اپنی صورتوں سے واقف ہوں
اور ان کو اور ان کی بد اندیشیوں کو جانے دے۔ اور ظاہر ہو گیا ہے کہ خدا نے ان کی
ناکوں پر داغ دیا ہے اور ان کے علم کی حقیقت کو طشت ازبام کر دیا ہے۔ اور باوجود اس
سب کے شرمندہ اور پشیمان نہیں ہوتے اور جس وقت ان کو حق کی طرف بلایا جائے
تیوری چڑھاتے ہیں اور گالیاں دیتے گزر جاتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگائی اور
ان کی آنکھ کو اندھا کیا۔ اور ان کے مونہوں کو اوندھا کر دیا پس وہ انس نہیں پکڑتے۔