ما ہٰذا إلّا شقاوۃ توجب غضب الربّ لما ہی إعراض عما تؤمرون . وما أسألکم علی ما جئتکم بہ من أجر ولا أقول أنِ انبِذوا مالًا من أیدیکم فآخذُہ، بل أوتیکم مالًافہل أنتم تأخذون؟ أیہا الفقراء ما بقی فی أیدیکم شیءٌ من الدنیا والآخرۃ، فلا تظلموا أنفسکم وأنتم تعلمون۔ وإن کنتم فی شکّ من أمری فامتحنونی کیف ایں تیرہ بختی غضب خداوندی را پیدا مے کند چہ کہ ایں از امر الٰہی رو گردانیدن است من بر آنچہ پیش شما آوردہ ام مژدے از شما نمے خواہم و نہ مے گویم کہ مال از دست خود بر زمیں بیفگنید و من وے را بردارم بلکہ من خود شما را مال مے دہم آیا مے گیرید اے تنگ دستاں! چیزے از دنیا و آخرت در درست شما نماندہ پس بر جان خود دانستہ ظلم مکنید و اگر دربارۂ من شکے دارید پس بہر طوریکہ بخواہید اس بدبختی سے خدا کا غضب بھڑکتا ہے کیونکہ یہ خدا کے حکم سے منہ پھیرنا ہے۔ میں اس چیز پر جو تمہارے پاس لایا ہوں کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ یہ کہتا ہوں کہ مال اپنے ہاتھ سے زمین پر پھینکو اور میں اسے اٹھالوں۔ بلکہ میں خود تم کو مال دیتا ہوں کیا لیتے ہو؟ اے فقیرو! دنیا اور آخرت میں سے تمہارے پاس کچھ نہیں رہا۔ پس اپنی جان پر جان بوجھ کر ظلم نہ کرو اور اگر میری نسبت تمہیں کچھ شک ہے تو مجھے جس طرح چاہو