لعلکم تُرحمون. وما من قضیۃ أصرّ علیہا
أہل الأرض إلّا قُضیتْ فی آخر الأمر فی السماء ، وتلک سُنّۃٌ لا تبدیل لہا أیہا الظالمون. وما کان اللّہ لیترک الحق وأہلہ حتی یمیز الخبیث من الطیب، فما لکم
لا تبصرون؟ وإنْ أَ کُ کاذبا فعلیّ کذبی، وإنْ أَ کُ صادقًا فأخاف أن یمسّکم نَصَبٌ من اللّہ، وإنّہ لا
تا بر شما رحم بشود و ہر قضیہ کہ اہل زمین براں اصرار
بورزند لازماً آخر کار در آسمان فیصل کردہ مے شود۔
اے ظالمان! ایں سنّتِ خداست کہ گاہے تبدیل نشدہ است۔ ہرگز
ممکن نیست کہ خدا حق را و اہل حق را بگذارد تا آنکہ
ناپاک را از پاک جدا نہ سازد۔
اگر من کاذب ہستم و بال کذب من بر سر من فرود آید و اگر من صادق ہستم
مے ترسم کہ شما را از طرف خدا رنج و درد برسد و مقرر است
تا تم پر رحم کیا جائے اور ایسا ہر ایک جھگڑا جس میں اہل زمین
اصرار کریں آخر کار آسمان میں اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اے ظالمو! یہ خدا کی سنت ہے جو کبھی نہیں بدلی۔ ہرگز
ممکن نہیں کہ خدا حق کو اور اہل حق کو چھوڑ دے جب تک
ناپاک کو پاک سے جدا نہ کرے۔
اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے جھوٹ کا وبال میرے سر پر پڑے گا اور اگر میں سچا ہوں
تو میں ڈرتا ہوں کہ تم پر خدا کی طرف سے عذاب نازل ہو۔ اور یہ پکی بات ہے