ایک شہر کی مانند کر دیا۔ غرض مسیح کے زمانہ کے لئے منارہ کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ اُس کی روشنی اور آوا ز جلد تر دنیا میں پھیلے گی۔ اور یہ باتیں کسی اَور نبی کو میسّر نہیں آئیں۔ اور انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح کا آنا ایسے زمانہ میں ہوگا جیسا کہ بجلی آسمان کے ایک کنارہ میں چمک کر تمام کناروں کو ایک دم میں روشن کر دیتی ہے یہ بھی اِسی امر کی طرف اشارہ تھا یہی وجہ ہے کہ چونکہ مسیح تمام دنیا کو روشنی پہنچانے آیا ہے اس لئے اُس کو پہلے سے یہ سب سامان دیئے گئے۔ وہ خون بہانے کے لئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے صلح کاری کا پیغام لایا ہے۔ اب کیوں انسانوں کے خون کئے جائیں۔ اگر کوئی سچ کا طالب ہے تو وہ خدا کے نشان دیکھے جو صدہا ظہور میں آئے اور آرہے ہیں۔ اور اگر خدا کا طالب نہیں تو اُس کو چھوڑ دو اور اس کے قتل کی فکر میں مت ہو کیونکہ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب وہ آخری دن نزدیک ہے جس سے تمام نبی جو دنیا میں آئے ڈراتے رہے۔
غرض یہ گھنٹہ جو وقت شناسی کے لئے لگایا جائے گا مسیح کے وقت کیلئے یاد دہانی ہے اور خود اس منارہ کے اندر ہی ایک حقیقت مخفی ہے اور وہ یہ کہ احادیث نبویہ میں متواتر آ چکا ہے کہ مسیح آنے والا صاحب المَنَارہ ہوگایعنی اُس کے زمانہ میں اسلامی سچائی بلندی کے انتہا تک پہنچ جائے گی جو اس منارہ کی مانند ہے جو نہایت اونچا ہو۔ اوردین اسلام سب دینوں پر غالب آجائے گا اُسی کے مانند جیسا کہ کوئی شخص جب ایک بلند منار پر اذان دیتا ہے تو وہ آواز تمام آوازوں پر غالب آجاتی ہے۔ سو مقدّر تھا کہ ایسا ہی مسیح کے دنوں میں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔333۱۔ یہ آیت مسیح موعود کے حق میں ہے اور اسلامی حجت کی وہ بلند آوازجس کے نیچے تمام آوازیں دب جائیں وہ ازل سے مسیح کے لئے خاص کی گئی ہے اور قدیم سے مسیح موعود کا قدم اس بلند مینار پر قرار دیا گیا ہے جس سے بڑھ کر اَور کوئی عمارت اونچی نہیں۔ اِسی کی طرف براہین احمدیہ کے اؔ س الہام میں اشارہ ہے جو کتاب مذکور