السّماء ثمّ یاتی المسیح فقال اللّٰہ علٰی لسان نازل شود باز درپس آں مسیح بیاید پس خدا برزبان نازل ہوگا پھر اس کے بعد مسیح نازل ہوگا پس خدا نے عیسٰی کی زبانی عیسٰی انّھم قومٌ مبطلون۔ فمالکم ترجون امرًا عیسی فرمود کہ اینہا قوم باطل پرست ہستند اکنوں چہ شد کہ شما امیدوار ہماں امر فرمایا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔ اب تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اسی بات کے ابطلہ اللّٰہ من قبل والمؤمن لایلدغ من جحرٍ مے باشید کہ پیش ازیں خدا آں را باطل قرارداد و ثابت است کہ مومن ازیک سوراخ امیدوار ہو جسے خدا نے اس سے پہلے باطل قرار دیا اور ثابت ہے کہ مومن ایک ہی سوراخ سے دوبار وّاحدٍ مرّتین ویتّعظ بغیرہٖ لِئلّا یلومہ اللّا ئمون۔ دوبار گزیدہ نمے شود ونیزازدیگراں عبرت مے پذیرد تانشانہ ملامت نہ گردد نہیں کاٹا جاتا اور یہ کہ دوسروں سے عبرت پکڑتا ہے تا ملامت کا نشانہ نہ بنے أَتکملون ھٰذہ المشابھۃ بالسنکم وغلوّکم آیا ایں مشابہت را با زبان خود و از غلّو کردن کیا تم اس مشابہت کو اپنی زبان سے اور نزول کے عقیدہ پر غلّو کرنے سے علٰی عقیدۃ النّزول وتعلمون انّ المسیح قد برعقیدہ نزول کامل مے کنید و شما مے دانید کہ مسیح کامل کرتے ہو اور تم جانتے ہو کہ مسیح نے خالف ھٰذا الرّأی فمالکم تحبّونہٗ ثمّ تعصون خلاف ایں رائے کردہ پس چہ سبب است کہ اورا دوست مے دارید و اس رائے کے خلاف کیا ہے۔ پس کیا سبب ہے کہ اس کی دوستی کا دم بھرتے ہو لیکن